جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

کروڑوں کے قرضے لیکرمعاف کروانے والوں کی شامت آگئی ،رقم کیسے وصول کی جائے؟چیف جسٹس نے حکم جاری کردیا

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) اسلام آباد(سی پی پی)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر معاف کیے گئے قرضے واپس کروائیں گے۔اگر قرضے واپس نہیں کیے تو مقروضوں کے صنعتی یونٹس ضبط کرلیں گے، رقم نہیں تو اثاثہ ریکور کرلیں گے، سپریم کورٹ میں قرض معافی کیس کی سماعت ہوئی۔ تو درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف، بے نظیر بھٹو، جونیجو، یوسف رضا گیلانی، چوہدری برادران نے بھی قرضے معاف کروائے۔

نیشنل بینک کے وکیل نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر بتایا کہ عدالت نے بینک کے قرضے معاف کروانے کی تحقیقات کے لئے کمیشن تشکیل دیا تھا،اسٹیٹ بنک کا سرکلر جاری ہونے کے بعد بینک کے قرضہ جات معاف کئے گئے، عدالت جسٹس جمشید کی رپورٹ پر فیصلہ کرے۔چیف جسٹس نے کہا کہ 54 ارب روپے کے قرضے معاف کروائے گئے۔ وکیل نے کہا کہ عدالتی کمیشن نے 54 ارب کے قرضوں کی معافی کو ماضی کا قصہ قرار دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرانے دبے ہوئے مقدمات کو نکلوا رہا ہوں، سیاسی بنیادوں پر بھی قرضے معاف کئے گئے، کسی جگہ فریقین نے سمجھوتہ بھی کر لیا ہوگا، نیشنل بینک نے کئی ارب کے قرضے معاف کیے، کمیشن کی رپورٹ آنے پر مقدمے کی کارروائی نہیں ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 223 قرضہ معافی کے مقدمات مشکوک ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر معاف قرضے واپس نکلوائیں گے، اگر قرضے واپس نہیں کیے تو مقروضوں کے صنعتی یونٹس ضبط کرلیں گے، رقم نہیں تو اثاثہ ریکور کرلیں گے، ایک ہفتے میں قرض معافی کی سمری بناکردیں، ابھی تو یہ دیکھنا ہے اس کیس کو چلانا کیسے ہے، 2007 سے یہ معاملہ زیرالتوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…