جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس صاحب! آپکی عزت ہے تو ہماری بھی عزت ہے، بہت ہوگیا ،کسی کو اختیار نہیں ہمیں طعنے دے ،احسن اقبال کی جسٹس ثاقب نثار پر شدید تنقید،کیا کچھ کہہ ڈالا

datetime 25  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کی خدمت ہے لہذا حکومت کو شاباش نہیں دے سکتے تو روزانہ طعنے نہ دیئے جائیں۔ ہماری بھی اتنی عزت ہے جتنی کسی جج یا فوجی کی ہے۔اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے معاشی ترقی کے دو کیچ چھوڑ دیئے، 60 کی دہائی میں ترقی کا سفر روک دیا گیا اور 90 کی دہائی میں معاشی اصلاحات کا سفر روک دیا گیا،

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جو سی پیک میں سرمایہ کاری کا نہ سوچ رہا ہو، امریکا اور یورپ سب سی پیک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کا ماسٹر پلان ہانگ کانگ سے بھی بہتر بنایا جائے گا لیکن عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ ترقی رابطوں سے ہوتی ہے، سڑک ہوگی تو پڑھنے کے لیے جاسکیں گے، سڑک ہوگی تو مریض اسپتال پہنچے گا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے سیاست دان کیا بھارت اور بنگلا دیش سے بھی گئے گزرے ہیں، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں خود ساختہ پیٹریاٹ گروپ بنائے جا رہے ہیں، پیٹریاٹ گروپ کا سکہ اور اب ایم ایم اے کا خیال پرانا ہوچکا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی پاکستان کے ساتھ مخلص اور پیار کرتے ہیں،ہماری بھی عزت ہے،جتنا کوئی فوجی محب وطن ہے اتنے سیاست دان بھی ہیں، اگر کوئی جج محب وطن ہے تو سیاست دان بھی محب وطن ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کی توہین ہوتی ہے تو میری بھی توہین ہوتی ہے، اگر میں نے کسی کو غلط لگادیا تو ثبوت دیں توہین نہ کریں، چیف جسٹس کو گالیاں دینے کا اختیار نہیں ہے، جناب چیف جسٹس دل بڑا کریں، چیف جسٹس نے الزام لگایا کہ تقرری میں احسن اقبال کا ہاتھ ہے، چیف جسٹس کے پاس اگر ثبوت ہیں تو چارج شیٹ جاری کریں۔انہوں نے کہاکہ اگر چیف جسٹس کی عزت ہے تو ہماری بھی عزت ہے، چیف جسٹس کو اختیار نہیں کہ وہ ہمیں طعنے دیں، بہت ہوگیا چیف جسٹس صاحب، ہم نے ہمیشہ باعزت طریقے سے سیاست کی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ چیف جسٹس شاباش نہیں دے سکتے تو آپ کو حق نہیں کہ تعزیے برسائیں، ججز، جرنیل، سیاستدانوں اور میڈیا کی زمہ داری ہے کہ آگ لگانے کے بجائے مل کر ملک کی خدمت کریں تاہم ہم تر قی کا راستہ روکنے کی کوشش ناکام بنائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…