جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’ثاقب نثار لاء سیکرٹری سے جج کیسے بنے؟‘ نواز شریف نے چیف جسٹس کیخلاف نیا محاذ کھول دیا

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی ، مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ معلوم تھا نیب مارشل لاء دور کا قانون ہے غلطی ہوئی اس کو ختم نہیں کرسکے‘ میرے خلاف اربوں‘ کھربوں کی کرپشن کے الزامات لگائے گئے ‘ اﷲ ہمیں تمام الزامات سے سرخرو کررہا ہے‘ اکیسویں صدی میں کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کسی کی زبان بند کرسکتا ہے تو اس کی خام خیالی ہے‘ اگر آپ کچھ کہیں گے یا کریں گے تو بائیس کروڑ عوام

اس کا جواب دے گی۔ آپ براہ مہربانی اپنا کام کریں دوسروں کے کام میں بے جا مداخلت نہ کریں‘ آپ جا کر یہ بھی دیکھ لیں کہ عدالتوں میں غریب عوام کو کتنا انصاف مل رہا ہے۔ منگل کو نواز شریف نے احتساب عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ عدلیہ میں اصلاحات ہونی چاہئیں۔ عدلیہ کس طرح ہمارا خیال رکھ رہی ہے آٹھ ماہ سے سب کے سامنے ہے۔ معلوم تھا کہ نیب مارشل لاء کا قانون ہے لیکن علطی ہوئی اسے ختم نہیں کرسکے لندن فلیٹس ہم نے قومی خزانے سے نہیں خریدے ہم نے کرپشن سے مال بنا کر اثاثے بنائے تو ثابت کریں۔ اربوں کھربوں کا الزام تو لگایا لیکن کوئی بھی چیز ثابت نہیں کرسکے جس طرح میرے خلاف مقدمات بنائے گئے ہیں تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ جب کرپشن کا معاملہ دور دور تک نہیں ہے تو یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ اﷲ ہمیں تمام الزامات سے سرخرو کرنے جارہا ہے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گاؤں گاؤں پھیل چکا ہے اب یہ معاملہ نہیں رکے گا یہ اکیسویں صدی ہے اور اس میں کسی کی زبان کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ زبان بندی کرسکتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے کہ کبوتر اپنی آنکھوں کو بند کرلے اور سوچے کی کوئی اس کو نہیں دیکھ رہا۔ معاملات ایسے نہیں چلیں گے یہ قوم حساب مانگ رہی ہے اور آگے بھی مانگے گی آپ جو مرضی کردیں اور کہہ دیں اور توقع کریں کہ آگے سے جواب نہیں آئے گا تو جواب تو آئے گا۔ جواب صرف نواز شریف کی طرف سے نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام بھی اس کا جواب دیں گے۔

آپ مہربانی کرکے صرف اپنے کام سے کام رکھیں اور جو آپ کا کام نہیں ہے تو اس میں مداخلت نہ کریں آپ یہ دیکھیں کہ عدالتوں میں لوگ کیسے ذلیل ہورہے ہیں کیا ان کی دادرسی ہورہی ہے وہ کام آپ نے چھوڑ رکھا ہے۔ آپ کے پاس کوئی شکایت آتی ہے تو آپ نوٹس لیں لیکن آپ خود کیسے جاسکتے ہیں وہاں۔جبکہ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام الزامات سے سرخرو کرتا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ

نیب اس بات کی بھی تحقیقات کرے کہ چیف جسٹس لا سیکرٹری سے جج کیسے بن گئے ؟ عدالت میں ہی میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ میڈیا میں شور کیا جا رہا تھا ظاہرشاہ کوئی نئے ثبوت لے کر آئے ہیں۔ نئے ثبوتوں کے مطابق بلوں اور لینڈ رجسٹری میں نہ میرا نام ہے اور نہ ہی میرے بھائیوں کا۔کہا گیا کہ نواز شریف سے سکیورٹی واپس لینے کا نہیں کہا آپ مہربانی کرکے صرف اپنے کام سے کام رکھیں اور جو

آپ کا کام نہیں ہے تو اس میں مداخلت نہ کریں آپ یہ دیکھیں کہ عدالتوں میں لوگ کیسے ذلیل ہورہے ہیں کیا ان کی دادرسی ہورہی ہے وہ کام آپ نے چھوڑ رکھا ہے۔ آپ کے پاس کوئی شکایت آتی ہے تو آپ نوٹس لیں لیکن آپ خود کیسے جاسکتے ہیں وہاں۔ آپ مہربانی کرکے صرف اپنے کام سے کام رکھیں اور جو آپ کا کام نہیں ہے تو اس میں مداخلت نہ کریں آپ یہ دیکھیں کہ عدالتوں میں لوگ کیسے ذلیل ہورہے ہیں کیا ان کی دادرسی ہورہی ہے وہ کام آپ نے چھوڑ رکھا ہے۔ آپ کے پاس کوئی شکایت آتی ہے تو آپ نوٹس لیں لیکن آپ خود کیسے جاسکتے ہیں وہاں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…