جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

میرے ساتھ رات بھر یہ کام ہوتا رہا تو یہاں کی عوام کا کیا حال ہوتا ہو گا؟ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ پشاور میں دوران قیام پہلی ہی رات کیا ہوا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

پشاور (نیوز ڈیسک) گزشتہ دنوں جب چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار پشاور گئے تھے، وہاں انہوں نے ایک رات قیام کیا، ان کے قیام کے دوران رات کو سات مرتبہ لوڈ شیڈنگ ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے سوموٹو نوٹس پر کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ اگر یہ ہو رہا ہے تو عوام کی کیا حالت ہوگی، یہ عوام کے بنیادی حقوق ہیں اور یہ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ انہیں آپ یہ سہولیات مہیا کریں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ صوبے میں پانچ سال کے دوران کتنی بجلی پیدا کی گئی؟ جس کا جواب دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ حکومت نے اب تک 75 میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 1400 میگاواٹ کی طلب کے صوبے کے لیے 75 میگاواٹ کیا حیثیت رکھتی ہے؟ واضح رہے کہ گزشتہ روز چار سدہ میں جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ٗجسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اب ہماری عدلیہ کو ڈیلیور کرنا پڑیگا اور اگر عدلیہ ڈیلیور نہیں کریگی تو ہم شاید جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ نہ کرپائیں ٗانسٹی ٹیوشن عمارت سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں ٗ جو قومیں ایڈہاک ازم پر چلتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں ٗہمارے قانون پرانے ہیں ٗ اپ ڈیٹ کر نا مقننہ کا کام ہے ٗ انصاف کا تاخیر سے ملنا انصاف کی موت ہے ٗٹرائل میں جو تاخیر ہوتی ہیں ان کا حل دیاجائے ٗ دیانت داری، بہترین صلاحیت اور ایمانداری کیساتھ رات دن محنت کریں ٗوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے پوچھا کتنے نئے تعلیمی ادرے قائم کیے، اس پر کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا ٗجو سوموٹو ایکشن لیے وہ بنیادی حقوق سے منسلک ہوں گے۔ جمعہ کو جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انسٹی ٹیوشن عمارت سے نہیں بنتے،

یہ شخصیات سے بنتے ہیں، دنیا میں قومیں علم، لیڈرشپ، عدالتی نظام اور انسٹی ٹیوشنز سے ترقی کرتی ہیں، جو قومیں ایڈہاک ازم پر چلتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ادارے ترقی کی ایک مثال ہوتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ اب ہماری عدلیہ کو ڈیلیور کرنا پڑیگا ٗ اگر عدلیہ ڈیلیور نہیں کرے گی تو ہم شاید جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ نہ کرپائیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ ہمارے قانون بہت پرانے ہیں، ان قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا مقننہ کاکام ہے، ہم نے قانون کو اپ ڈیٹ نہیں کیا، سب سے بڑا مسئلہ ہے لوگوں کو جلد انصاف نہیں ملتا، وہ کیوں نہیں ملتا، اکیلا اس سوال کا جواب نہیں ڈھونڈ پارہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…