جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بھارتی چیف جسٹس کو مواخذے کا سامنا،ججز انکوائری ایکٹ 1968 کے تحت کسی بھی جج کیخلاف کتنے ارکان اسمبلی ملکر تحریک پیش کرسکتے ہیں؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی چیف جسٹس دیپک مشرا کو پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مواخذے کا سامنا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق جمعہ کو کانگریس سمیت سات اپوزیشن جماعتوں نے مواخذے کی پٹیشن نائب صدراور راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیانائڈو کے پاس جمع کروادی۔پٹشن پر 71ارکان کے دستخط موجود ہیں۔اگر جسٹس مشرا کے خلاف پٹشن پر کارروائی ہوتی ہے تو یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا۔اس سے پہلے بھارت میں کسی چیف جسٹس کا مواخذہ نہیں ہوا۔

نائب صدر اس پٹیشن کو آگے بڑھانے سے قبل قانونی مشاورت کریں گے۔اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا یہی واحد طریقہ ہے جس کے تحت پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے سنگین معاملا ت کی انکوائری کو یقینی بنا سکتی ہے۔ 2 جنوری کو سپریم کورٹ کے چار ججوں جستی چیلمیشور، رنجن گوگوئی، مدن بی لوکور اور کوریان جوزف نے حیران کن انداز سے عوامی سطح پر اپنی شکایات کا اظہار کیا اور ان ججوں کو سماعت کیلئے مقدمات دینے کے معاملے میں چیف جسٹس انڈیا دیپک مشرا کے رویے پر سوالات اٹھائے تھے۔واضح رہے کہ بھارت کے ججز انکوائری ایکٹ 1968 کے تحت کسی بھی جج کیخلاف شکایت سامنے آنے پر لوک سبھا کے 100 یا راجیہ سبھا کے 50 ارکان تحریک پیش کر سکتے ہیں۔ ارکان کی جانب سے تحریک پیش کیے جانے کے بعد، پرزائیڈنگ افسر تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتا ہے جس میں دو ججز ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جج سپریم کورٹ سے تعلق رکھتا ہے۔اگر شکایت ہائی کورٹ کے جج کیخلاف ہو تو دوسرا جج ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ہوتا ہے۔ اور اگر شکایت سپریم کورٹ کے جج کیخلاف ہو تو دونوں جج سپریم کورٹ کے ہوتے ہیں۔ تیسرا رکن ماہر قانون ہوتا ہے جو شکایت کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرتا ہے اور اس بات کا تعین کرتا ہے کہ معاملہ مواخذہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…