بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اربوں روپے کی کتاب

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

علامہ ابن جوزی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے‘ وہ اپنی عمر کا ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے تھے‘وہ قلم کے تراشے سنبھال کر رکھتے تھے چنانچہ ان کی وفات کے بعد ان تراشوں سے پانی گرم کر کے ان کو غسل دیا گیا۔ ابن جوزی اپنے روزنامچہ صید الخاطر میں ان لوگوں پر کف افسوس ملتے ہوئے نظر آتے ہیں جو کھیل ‘ تماشے میں لگے رہتے ہیں‘ اس دنیا کی کھوج کرو اور اپنی زندگی کا مقصد جاننے کی ہر لمحہ کو شش کرو۔خود کو جاننے میں مدد گار کتاب ہے‘ کتاب ہماری زندگی اور ہم کتابی علم سے لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتے ہیں۔ علامہ رفیق حسن اس قدر غریب تھے کہ کتاب خریدنے کی اوقات نہ تھی‘ اس مسئلے کاحل انہوں نے کتابوں کی ایک بڑی دوکان پر چوکیداری شروع کر کے حل کیا اور وہ چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ سے انیس گھنٹے مطالعہ کیا کرتے تھے‘ اگر اس دور میں علامہ رفیق حسن حیات ہوتے تواس دنیا کی مہنگی ترین کتاب کی قیمت سن کر ضرور پریشان ہو جاتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…