جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور مہنگے الیکشن آپریشن کی تیاریاں مکمل ،کتنے کروڑ پاکستانی ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے؟کتنے ارب خرچ ہوگا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 18  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور مہنگے ترین الیکشن آپریشن کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں ، 8 لاکھ سے زائد پولنگ سٹاف کے زریعے 10 کروڑ سے زائد پاکستانی ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر کے مستقبل کی قیادت چھینیں گے ۔ الیکشن آپریشن پر تقریباً 20 ارب روپے خرچ ہو نگے ۔ سو ارب روپے کی لاگت سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے 20 کروڑ سے زائد بیلٹ پیپرز کے کاغذ کی خریداری کر لی گئی ہے

جسے کڑی نگرانی میں پاک فوج کے ادارے نیشنل سیکورٹی کمپنی کراچی سے پرنٹ کروانے کا عمل جاری ہے۔ بھار ی مقدار میں پرنٹنگ کا بوجھ کم کرنے کے لئے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کا کچھ حصہ پرنٹنگ کا رپوریشن آف پاکستان اور پوسٹل کار پوریشن کی پرنٹنگ پر یسوں سے پرنٹ کروایا جا سکتا ہے ۔ اس مرتبہ جو بیلٹ پیپرز تیار کروایا گیا ہے۔ وہ جعلی طور پر تیار کرنا نا ممکن ہے بیلٹ پیپر پر واٹر مارک اور سپیشل سیکورٹی فیچرز رکھے گئے ہیں، جس کے لئے جدید ترین اور نہایت مہنگی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے ۔2013 کے انتخابات میں بیلٹ پیپرز کی ادھر ادھر سے پرنٹنگ کی شکایات سامنے آئی تھیں جبکہ پولنگ سٹاف بالخصوص ریٹرننگ آفیسرز کے کردار پر انگلیاں اٹھائی گئیں تھی۔ 2013 میں ووٹرز کی رجسٹرڈ تعداد 8 لاکھ 16 ہزار تھی نئی حلقہ بندیوں کے باوجود قومی اسمبلی کی 272 نشستوں پر جبکہ چاروں صوبوں میں صوبائی اسمبلیوں کی 559 نشستوں پر عام انتخابات ہو ں گے ۔ الیکشن کمیشن نے حالیہ انتخابات میں الیکڑانک پولنگ کو ناقابل عمل قرار دے دیا ہے ۔ کمیشن کے ریکاڈ کے مطابق ملک کی 60 فیصد آبادی ان پڑھ افراد پر مشتمل ہے جو الیکٹرونک سسٹم کو سمجھنے سے قاصر ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ مزدور پیشہ اور زراعت کے سخت کام سے منسلک ہیں جن کے انکوٹھوں کے نشانات نادار کا سسٹم ٹریس نہیں کر سکتا ۔

علاوہ ازیں ستر سال سے زائد عمر کے بیشتر افراد کے انگوٹھوں کے نشانات بھی بہت مدھم ہونے کی وجہ سے مشینرریڈ کے قابل نہیں ہوتے ۔ علاوہ ازیں ایک پولنگ سٹیشن پر تقریباً 1200 افراد اپنا ووٹ پول کرنے کے لئے آئیں گے۔ الیکٹرونک نظام میں خرابی کی صورت میں لوگوں کو شدید گرمی میں گھنٹوں قطار میں کھڑا ہونا پڑ سکتا ہے ۔ اور اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ خراب مشین الیکشن کے وقت کے دوران درست نہ کی جا سکے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ہونے کے باوجود ان کے ووٹ پول کرنے کے لئے نا درا کا الیکٹرونک ای میل سسٹم درست طور پر کام کے قابل نہیں معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے تاہم واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو الیکٹرونک نظام کے تحت ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں مل سکے گی جس سے بڑی تعداد میں بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹ پول نہیں کر سکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…