جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

لگتا ہے گونگی ہے بہری ہے دہلی۔۔۔! مقبوضہ کشمیر میں قتل ہونے والی آصفہ کی آخری ویڈیو ،معصوم بچی کے ساتھ وحشیانہ سلوک کی اصل وجہ سامنے آگئی‎

datetime 16  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں ضلع کٹھوعہ کے علاقے رسانا سے اغواء ہونے والی معصوم آٹھ سالہ آصفہ کی مسخ شدہ لاش علاقے کے جنگل سے برآمد ہوئی، اس معصوم کی آبرور یزی کے بعد اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا، اب آٹھ سالہ آصفہ کی ایک آخری ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ دہلی سرکارسے مخاطب ہے اور ایک مظلوم ماں کی صدا بلند کر رہی ہے،

آصفہ اس ویڈیو میں کہہ رہی ہے کہ سنا تھا کہ بے حد سنہری ہے دہلی ۔سمندر سے خاموش گہری ہے دہلی۔ مگر ایک ماں کی صدا سن نہ پائی۔ تو لگتا ہے گونگی ہے بہری ہے دہلی۔ وہ آنکھوں میں اشکوں کا دریا سمیٹے۔ وہ امید کا ایک نظریہ سمیٹے۔ یہاں کہہ رہی ہے وہاں کہہ رہی ہے۔ تڑپ کر کہ یہ ایک ماں کہہ رہی ہے ۔ نہیں پوچھتا ہے کوئی حال میرا۔ کوئی لا کہ دے دے مجھے لال میرا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی منظر عام پر آنے والی یہ آخری ویڈیو ہی اس کی موت کا سبب بن گئی ہے ، جسے ہندو بنیا برداشت نہ کر پایا اور اس معصوم بچی کی آواز کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی کی آبروریزی اورقتل میں ملوث مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے ذرائع ابلا غ کے نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے گجر بکروال طبقے سے تعلق رکھنے والی بچی کی آبرو ریزی اورقتل کے حوالے سے مختلف رپوٹس دیکھی ہیں اور وہ پوری امید رکھتے ہیں کہ مجرموں کو گرفت میں لایا جائے گا۔ یاد رہے کہ آصفہ کو ضلع کٹھوعہ کے علاقے رسانا سے رواں برس دس جنوری کو اغوا کیا گیا تھا جبکہ 17جنوری کو اسکی مسخ شدہ لاش علاقے کے جنگل سے برآمد ہوئی تھی۔پولیس کے کرائم برانچ نے سپیشل پولیس افسر دیپک کھجوریہ اور دیگر بھارتی پولیس اہلکاروں کو بہیمانہ واقعے کا مجرم قرار دیتے ہوئے انکے خلاف عدالت میں چارج شیٹ جمع کرا دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…