پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت اور سعودی عرب میں اہم منصوبے طے پا گئے، ان منصوبوں پر کتنی لاگت آئے گی اور بھارت کو اس سے کتنا فائدہ ہوگا؟

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت اور سعودی آرامکو کمپنی مابین ضخیم منصوبے طے پا گئے، منصوبے کی متوقع لاگت 44 ارب ڈالر ہے، ارامکو بھارت میں سرمایہ کاری کے دیگر مواقع پیدا کرنے کا سلسلہ نہیں روکے گی، ریفائنری سے بھارت میں تیل سپلائی میں اضافہ ہو گا، ریفائنری میں 50% حصّہ ارامکو کا ہو گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تیل پیدا کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی سعودی کمپنی ارامکو نے بھارت کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

اس کے تحت بھارت کے مغربی ساحل پر پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ایک فیکٹری اور سالانہ 6 کروڑ ٹن تیل صاف کرنے کی گنجائش رکھنے والی ایک آئل ریفائنری قائم کی جائے گی۔مفاہمتی یادداشت پر سعودی عرب کی ارامکو کمپنی اور بھارت کے رتنا گریگروپ آف کمپنیز نے دستخط کیے۔ارامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے امید ظاہر کی ہے کہ مغربی ساحل پر آئل ریفائنری 2025 سے قبل تیار ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ “بھارت معیشت کی اعلی شرح نمو رکھنے والا ملک ہے جہاں کی منڈی میں دنیا کی بڑی کمپنیاں کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ خام مال کے حوالے سے سعودی ارامکو کا بھارتی منڈی کے ساتھ امتیازی تعلق ہے۔ سعودی ارامکو اس نئی تزویراتی سرمایہ کاری پر فخر محسوس کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان تیزی سے بڑھتے تعلقات کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ گزشتہ برس 2017 میں نئی دہلی میں ارامکو ایشیا کمپنی کے دفتر کے افتتاح سے اس خطّے میں سعودی ارامکو کے آپریشنز کو توسیع حاصل ہو گی جہاں بڑے پیمانے پر اقتصادی ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ادھر توانائی کے سعودی وزیر خالد الفالح نے باور کرایا ہے کہ ارامکو بھارت میں سرمایہ کاری کے دیگر مواقع زیر بحث لانے کا سلسلہ نہیں روکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی ساحل پر ریفائنری میں سرمایہ کاری سے بھارت کے لیے تیل کی سپلائی میں اضافہ ہو گا

اور اس ریفائنری میں 50% حصّہ ارامکو کا ہو گا۔ الفالح کے مطابق “سعودی عرب بھارت کے مغربی ساحل پر اس ریفائنری کے لیے کم از کم 50% خام تیل فراہم کرے گا۔ اس کمپلیکس کی مجموعی پیداوار میں 30% حصّہ پیٹروکیمیکل مصنوعات کا ہوگا۔آئل ریفائنری، کِرشنگ یونٹس اور پیٹروکیمیکل مواد کی ٹریٹمنٹ کے ساز و سامان کے علاوہ منصوبے میں ریفائنری کے ساتھ مربوط دیگر سہولیات بھی شامل ہوں گی۔ ان میں لوجسٹک سہولیات، خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی تقسیم کے لیے اسٹیشن

اور پانی کی فراہمی کا منصوبہ شامل ہے۔منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ دنیا میں ریفائننگ اور پیٹروکیمیکلز کے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار ہو گا۔ منصوبے کی متوقع لاگت 44 ارب ڈالر کے قریب ہے۔دوسری جانب سعودی وزیر توانائی خالد الفالح کا کہنا ہے کہ اوپیک تنظیم طلب اور رسد کے درمیان مضبوط توازن پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری اْس کی طلب کی سطح کے ساتھ برقرار نہیں رہ پا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…