پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں 8سالہ بچی سے اغواءکے بعد مندر میں اجتماعی زیادتی ، پھر جنگل میں لے جا کر قتل کئے جانے کا دلخراش واقعہ ۔۔ہندو درندوںنے دراصل یہ گھنائونی حرکت کیوں کی ؟ ایسا انکشاف کہ پوری دنیا لرزکر رہ گئی

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رواں برس جنوری میں مقبوضہ کشمیر میں بکروال کمیونٹی کی ایک 8سالہ بچی کا زیادتی کے بعد لرزہ خیز قتل مسلمانوں سے علاقہ خالی کرانے کی کوشش نکلا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال جنوری میں مقبوضہ کشمیر میں بکروال کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی8سالہ بچی کو کٹھوا کے علاقے رسانہ سے 10 جنوری کو اغوا کرنے

کے بعد ایک ہفتے تک مبحوس رکھا گیا، اس دوران شور شرابے اور بچی کی مزاحمت سے بچنے کیلئے اسے نشہ آور ادویات دی گئیں اور پھر گاؤں کے مندر میں 6 افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کا گلا دبا دیا، بعدازاں بچی کو نیم مردہ حالت میں ایک جنگل میں لے جایا گیا اور وہاں اس کے سر پر ایک بڑا پتھر مار کر قتل کردیا گیا۔ بچی سے اجتماعی زیادتی اور لرزہ خیز قتل کے خلاف کشمیری مسلمانوں نے مظاہرے کیے تھے، جن میں ملزموں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بھارتی ٹی وی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کی گئی 15 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں کہا گیاکہ بچی کا اغوا، زیادتی اور قتل ایک ‘سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جس کا مقصدبکروال مسلم کمیونٹی کو یہاں سے نکالنا تھا. پولیس چارج شیٹ کے مطابق بچی سے زیادتی کرنے والے 6 افراد میں سے 2 ایسے بھی تھے، جنہیں خاص طور پر اپنی جنسی ہوس پوری کرنے کے لیےدوسری جگہ سے بلوایا گیا تھا۔پولیس کے مطابق جس مندر میں بچی سے زیادتی کی گئی، اس کے نگران سنجی رام نامی شخص نے واقعےکی آڑ میں ہندوؤں کو اُکسایا جبکہ معاملہ دبانے کے لیے پولیس کو ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت بھی دی۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے مظالم عروج پر ہیں اور ایک ماہ کے دوران بھارتی قابض فوج نے 25کے قریب کشمیری نوجوانوں کو شہید کر چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…