پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

دبئی میں ایک چھوٹی سی غلطی نے ان دونوں دوستوں کو 11 کروڑ روپے کا مالک بنادیا، کیا غلطی تھی؟ جان کر آپ کو بھی انکی قسمت پر رشک ہو گا

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قسمت کبھی یوں بھی مہربان ہوتی ہے کہ انسان کو یقین ہی نہیں آتا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اور ایسا ہی بھارت سے تعلق رکھنے والے نوجوان پنٹو پال تھومانا اور اس کے دوست فرانسس سباسچین کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔ دونوں دوست اپنی پسند کا لاٹری نمبر نہ ملنے پر ایک اور نمبر خرید بیٹھے لیکن جب قرعہ اندازی ہوئی تو دونوں کو پتہ چلا کہ وہ

10لاکھ ڈالر (تقریباََ ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانی روپے)کے مالک بن چکے ہیں۔ عرب اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ پنٹو پال اور اس کے دوست فرانسس سباسچین نے لاٹری کا ٹکٹ خریدنے کا فیصلہ کیا لیکن کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ان کی پسند کا نمبر نہیں نکلا۔ دوسری ٹرائی پر 2465 نمبر نکلا جو انہیں پسند تو نا آیا البتہ بادل ناخواستہ خرید لیا۔ بعد ازاں وہ اپنے فیصلے کو غلط قرار دیتے رہے لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہی ’غلطی‘ ان کی زندگی بدلنے والی تھی۔ گزشتہ روز جب پنٹو کو لاٹری جیتنے کی خوشخبری سنانے کے لئے کال کی گئی تو وہ سمجھے کہ ان سے مذاق کیا جارہا ہے۔ پنٹو نے بتایا ”میں سمجھا کہ میرا کوئی دوست کال کرکے میرے ساتھ شرارت کررہا ہے لیکن پھر مجھے کئی اور لوگوں کے میسج اور کال آنا شروع ہوگئیں۔ ان لوگوں نے یہ خبر پہلے ہی سن لی تھی۔“ فرانسس کا کہنا تھا کہ ان کی فیملی کو کافی مالی مشکلات کا سامنا تھا جو اب بالکل ختم ہوگئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی انہوں نے فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اس رقم کا کیا کریں گے تاہم وہ یہ جانتے ہیں کہ اپنے دو بچوں کی اچھی تعلیم ان کی سب سے پہلی ترجیح ہوگی۔ پنٹو اور فرانسس بچپن کے دوست ہیں اور ریات کیرالہ میں بھی ہمسائے تھے جبکہ امارات میں بھی اکٹھے کام کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…