جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

اس علاقے کو بھارت کا حصہ کبھی تسلیم نہیں کرینگے، بھارت کی پوری ریاست پر چین نے اپنا دعویٰ کر دیا، دوٹوک اعلان کر ڈالا

datetime 10  اپریل‬‮  2018 |

بیجنگ (آ ئی این پی ) چین نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے حالیہ دورہ افغانستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہ پاک ا فغان تعلقات کی بہتری کی جانب اہم اقدام ہے، افغانستان میں قیام امن کے لئے عمدہ ماحول پیدا کیا جائے گا اور اس خطے کی امن اور ترقی کے لئے فائدہ مند ہو گا، چینی حکومت نام نہاد اروناچل پردیش کو کبھِی تسلیم نہیں کرے گی،

امید ہے بھارت معاہدے پر قائم رہے گا،مختلف فریقین چین امریکہ اقتصادی تعلقات پر بڑی توجہ دے رہے ہیں، امریکہ کو تائیوان کی انتظامیہ کے ساتھ سرکاری تبادلوں کو روکنا اور عسکری روابط اور اسے ہتھیاروں کی فروخت بند کرنی چاہیے۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوان نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے حالیہ دورہ افغانستان کو سرہاتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کی جانب سے بات چیت اور تعاون کو فروغ دینے کی خواہشات اور عزم کا اظہار کیا گیا ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے اتفاق سے افغانستان میں قیام امن کے لئے عمدہ ماحول پیدا کیا جائے گا اور اس خطے کی امن اور ترقی کے لئے فائدہ مند ہو گا ۔ چین افغانستان اور پاکستان کے ساتھ سہ فریقی تعاون کے فروغ پر تیار ہے ۔ گنگ شوان نے کہا کہ عالمی برادری کے دانشوروں نے خیال ظاہر کیا کہ یک طرفہ تحفظ پسندی مسائل کے حل کا درست طریقہ کار نہیں ہے اور بین الاقوامی تعاون اور کثیرالطرفہ مصالحت صحیح راستہ ہے ۔ قوانین و ضوابط کی بنیاد پر بین لااقوامی نظم و نسق پر عمل پیرا رہنا چاہیئے ۔ ؎ان دنوں آسٹریا ، ہالینڈ اور سنگاپور سمیت کئی ممالک کے راہنما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت بین الاقوامی تنظیموں کے راہنماچین میں ہونے والے بو آو ایشیائی فورم میں شریک ہیں ۔ انہوں نے چینی رہنماوں کے ساتھ مذاکرات کے

دوران خیال ظاہر کیا کہ آزاد تجارتی نظام کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ گنگ شوان نے کہا کہ اسوقت مختلف فریقین چین امریکہ اقتصادی تعلقات پر بڑی توجہ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کے قیام کے لئے بھر پور کوشش کی جائے ۔ گنگ شوان نے مزید کہا کہ امریکہ کو تائیوان کی انتظامیہ کے ساتھ سرکاری تبادلوں کو

روکنا اور عسکری روابط اور اسے ہتھیاروں کی فروخت بند کرنی چاہیے تاکہ چین امریکہ تعلقات اور آبنائے تائیوان کے امن اور استحکام کو سنگین نقصان نہ پہنچے ۔گنگ شوان نے کہا کہ چینی حکومت نام نہاد اروناچل پردیش کو کبھِی تسلیم نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت مذاکرات کے ذریعے سرحدی علاقے کے مسلے کی حل کے لئے ایک ایسا فارمولہ تلاش کر رہے ہیں جو دونوں فریقین کے لئے قابل قبول ہو ۔ چین کو امید ہے کہ بھارت فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر قائم رہے گا اور چین کے ساتھ مل کر سرحدی علاقے کے امن کے تحفظ کے لئے مشترکہ کوشش کرے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…