پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے انتہائی قدم اُٹھالیا، 11اپریل سے 21تک چین اور پاکستان کی سرحدوں کے نزدیک کیاکریں گے؟ دھماکہ خیز اعلان

datetime 7  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی ( این این آئی)جنگی جنون میں مبتلا بھارت 15ارب ڈالر کی مالیت کے 110لڑاکا طیارے خریدنے کی تیاری کر رہا ہے جس کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے اور امن کو خطرہ لاحق ہو گیا،انڈین ایئر فورس نے 11اپریل سے 21تک جنگی مشقوں کا اعلان کردیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی فضائیہ نے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ 110 فائٹرز جیٹس کے اضافے سے جنگی بیڑے میں کمی پوری ہوجائے گی اور انڈین ایئرفورس کی استعداد میں اضافہ ہو گا۔

جنگی ہتھیار اور طیارے بنانے والے معروف بین الاقوامی اداروں جیسے بوئنگ، لوک ہیڈ مارٹن، ساب، اور ڈاسسالٹ ایوی ایشن اپنی بولیاں دیں گے۔انڈین ایئر فورس کے اہم افسر کا بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ طیاروں کی تیاری کا 85 فیصد کام بھارت میں ہی کیا جائے گا اس لیے طیاروں کی تیاری بھارت میں ہی کی جائے گی تاکہ مقامی صنعت کو فروغ مل سکے جس پر جنگی طیارے بنانے والی کمپنی لوک ہیڈ نے اپنا ایف- 16 پروڈکشن لائن بھارت میں منتقل کرنے کی پیشکش کردی ہے۔واضح رہے بھارتی وزارت دفاع نے اس سے قبل سنگل انجن طیاروں کی خریداری کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا تاہم رواں سال فروری میں مودی حکومت نے دو انجن والے ایئر کرافٹ کی تیاری پر زور دیا تھا جس کے بعد بھارتی فضائیہ نے 110 فائٹرز جیٹس کی تیاری کے لیے ٹینڈرز طلب کر لیے ہیں۔دوسری جانب انڈین ایئر فورس نے 11 اپریل سے 21 تک جنگی مشقوں کا اعلان کردیا ہے۔ یہ جنگی مشقیں دو علیحدہ مرحلوں میں شمالی اور مغربی سرحدوں پر کی جائیں گی جس میں 15 ہزار اہلکار اور 3 سو افسران حصہ لیں گے جبکہ ان مشقوں میں 11 سو ایئر کرافٹس بھی مشق کا حصہ ہوں گے۔ انڈین ایئر فورس کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ بھارت کو دو جانب سے خطرات کا سامنا ہے اس لیے جنگی مشقیں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ جنگی مشقیں چین اور پاکستان کی سرحدوں کے نزدیک کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…