منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے شخص کے نام متاثرہ نوجوان لڑکی کا کھلا خط،انٹرنیٹ پر تہلکہ مچادیا

datetime 11  اپریل‬‮  2015 |

لندن (نیو ز ڈیسک ) جنسی جرائم کی شکار اکثر خواتین خود کو ہی گناہ گار سمجھنا شروع کردیتی ہیں اور اس بدقسمتی کی وجہ معاشرے کی بے حسی ہے جو مظلوموں کو بھی مجرموں کی صف میں کھڑا کردیتی ہے، لیکن ایک نوجوان برطانوی طالبہ نے خاموش رہنے کی بجائے اپنی عزت پر حملہ کرنے والے مجرم کو سرعام شرمسار کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔

بیس سالہ آئیون ویلز 11 اپریل کی صبح شمالی لندن میں اپنے گھر کی جانب جارہی تھیں کہ ایک جنسی درندے نے ان پر حملہ کردیا۔ آئیون کہتی ہیں کہ وہ ایک انڈرگراﺅنڈ سٹیشن سے اپنے گھر جارہی تھیں کہ ایک شخص نے ان کا تعاقب کیا اور پھر موقع پاکر انہیں بالوں سے کھینچ کر دیوار کے ساتھ دے مارا۔ حملہ آور نے ان کے جسم کو نوچنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں ان کا لباس پھٹ گیا لیکن دریں اثناءان کی چیخ و پکار سن کر ان کی فیملی اور ہمسائے ان کی مدد کو پہنچے جبکہ حملہ آور فرار ہوگیا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی طالبہ آئیون نے اس ظلم پر خاموش رہنے کی بجائے یونیورسٹی کے میگزین “Cherwell” میں حملہ آور کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ اس بدمعاشی سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور نہ ہی ان کی فیملی اور دوست کسی درندے سے خوفزدہ ہوکر اپنے معمولات میں تبدیلی کریں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ معمول کے مطابق آخری ٹرین استعمال کرتی ہیں اور ان کے پیارے بھی ایسا ہی کرتے ہیں لہذا جنسی درندے کو جان لینا چاہیے کہ اسے شکست ہوچکی ہے اور اس کے حملے کا شکار ہونے والی لڑکی عزم اور اعتماد کے ساتھ کھڑی ہے۔
آئیون نے #NotGuilty کے نام سے ایک آن لائن مہم بھی شروع کی ہے تاکہ جنسی ظلم کا شکار ہونے والوں کو بتاسکیں کہ وہ بے قصور ہیں اور ان پر حملہ کرنے والے مجرم اور درندے ہیں۔ ان کی مہم کو بے پناہ حمایت حاصل ہورہی ہے اور انٹرنیٹ صارفین ان کی ہمت اور عزم کو خوب سراہ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…