جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مُردہ مت کہووہ زندہ ہیں ” افغان صوبے قندوز میں امریکی بمباری سے شہید ہونیوالے ننھے حافظ قرآن نے قبر میں اترنے سے پہلے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے صوبے قندوز میں امریکی طیاروں کی مدرسے میں دستار بندی تقریب کے دوران بمباری سے سینکڑوں کم عمر حفاظ کرام کی شہادت پر عالم اسلام انتہائی غمگین اور دکھی ہے، اس بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے ننھے معصوم حافظ قرآن کو جب قبر میں اتارا جانے لگا تو اس نے اپنےو الد کا ہاتھ پکڑ لیا۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے

صوبے قندوز میں امریکی طیاروں کی ایک مدرسے پر حفاظ کرام کی دستار بندی تقریب پر بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں حفاظ کرام اور تقریب میں شریک افراد شہید ہو گئے ہیں جن کی تدفین کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی بمباری کے نتیجے میں وہاں موجود ننھے معصوم حفاظ کرام اور موجود لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے تھے ۔ اس ظلم پر جہاں پورا عالم اسلام دکھی اور غمگین ہے وہیں امریکہ کے خلاف اسلامی دنیا میں نفرت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نجی ٹی وی کے اینکر عامر لیاقت حسین نے قندوز واقعہ میں شہید ہونے والے ایک ننھے معصوم حافظ قرآن کی تدفین کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شیئر کی ہے جس میں قندور میں شہید ہونے والے معصوم حافظ کو جب قبر میں اتارنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے والد کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں عامر لیاقت حسین نے قرآن شریف کی ایک آیت کا ترجمہ بھی شیئر کیا ہے ’’اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مُردہ مت کہووہ زندہ ہیں ” (القران)۔واضح رہے کہ شمالی افغان صوبے قندوز میں کی گئی فضائی کارروائی کے بعد حملے میں بچ جانے والے عینی شاہدین اور دیہاتیوں نے بتایا ہے کہ صوبہ قندوز میں طالبان کے زیر کنٹرول دشتِ آرچی کے ضلعے میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں، جو ایک مذہبی تقریب میں شرکت کے

لیے جمع تھے۔افغان میڈیا کے مطابق اجتماع میں طالبان کا کوئی رکن موجود نہیں تھا، جب کہ سینکڑوں افراد دستاربندی کیایک محفل میں شریک تھے، جس میں قرآن مجید کو حفظ کرنے پر نوجوان لڑکوں کو گریجوئیشن کی ڈگری دی جارہی تھی۔صوبائی دارالحکومت قندوز کے ایک اسپتال کے سامنے دھاڑیں مار کر روتے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اگر

حکومت کا احتساب نہیں ہوتا، تو میں اپنی جان لے لوں گا۔ایک اور شخص نے چیخ کر کہا کہ میرا بھانجا ہلاک ہوگیا ہے۔آسمان کی جانب ہاتھ اٹھائے ایک شخص نے چیختے ہوئے فریاد کی کہ یہ کافروں کی حکومت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…