جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

بھارتی فوجی سیٹلائٹ تو خلاء میں بھیجے جانے کے اڑتالیس گھنٹوں کے بعد ہی لاپتہ ہوگیا مگر اب پاکستان جون میں ایک نہیں بلکہ 2سیٹلائٹ خلاء میں لانچ کررہاہے،ان سیٹلائٹس کی کیا خصوصیات ہیں؟چونکا دینے والے انکشافات‎

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) بھارتی فوجی سیٹلائٹ تو خلاء میں بھیجے جانے کے اڑتالیس گھنٹوں کے بعد ہی لاپتہ ہوگیا مگر اب پاکستان جون میں ایک نہیں بلکہ 2سیٹلائٹ خلاء میں لانچ کررہاہے،ان سیٹلائٹس کی کیا خصوصیات ہیں؟چونکا دینے والے انکشافات، تفصیلات کے مطابق پاکستان چین کی مدد سے اپنے 2ریموٹ سنسنگ سیٹلائٹ خلاء میں اسی سال جون کے مہینے میں لانچ کررہاہے ،

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژہنوا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کے دو سیٹلائٹ لے جانے والا راکٹ چین اور فرانس کا سیٹلائٹ بھی خلاء میں لے جائے گا،  رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ Long March-2C راکٹ عام طورپر زمین کے قریبی مدار میں سیٹلائٹ لے جانے کے کام آتاہے ، واضح رہے کہ اس سے قبل بھی چین پاکستان کا ایک کمیونیکیشن سیٹلائٹ پاکستان 1R سال 2011ء میں لانچ کرچکاہے ، جون میں لانچ کئے جانے والے سیٹلائٹس کے حوالے سے پاکستان اور چین نے 2016ء میں ایک خصوصی معاہدے پر دستخط کئے تھے کہ یہ سپیشل ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 2018ء میں لانچ کئے جائیں گے ، یہ سیٹلائٹ پاک چین اقتصادی راہداری کی نگرانی کے سلسلے میں بھی استعمال میں لائے جائیں گے، دریں اثناء بھارتی کمیونیکیشن سیٹلائٹ کے خلاء میں لاپتہ ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق خلائی تحقیقی مرکز (اسرو) اسرو نے جمعرات کی شام کو کمیونیکیشن سیٹلائٹ جی سیٹ6۔Aکا کامیاب تجربہ کیا تھاتاہم 48گھنٹے بعدوہ لاپتہ ہوگیا ۔29مارچ کو چھوڑے گئے سیٹلائٹ سے رابطہ نہ ہونے کی صورت میں اسروخلائی مرکز نے خاموشی اختیار کررکھی تھی۔31مارچ کی صبح ایل اے ایم نے تقریبا 53منٹ بعد ہی جی سیٹ R۔6Aکو خلائی حدود میں کامیابی کے ساتھ پہنچایا۔ تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ سیٹلا ئٹ کو یکم اپریل تک خلا کی تیسری اور آخری منز ل پر پہنچ کرمدار میں چکرلگانا تھا لیکن وہ اپنے مقام پر نہیں پہنچ سکا،

اس سے مرکز کا رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔اسرو نے جی ایس ایل وی۔ F۔R08 کے کامیاب تجربے کے ساتھ ہی جی سیٹ R۔6Aمیں نصب کیا تھا۔ اسے آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹ تحقیقی مرکز سے چھوڑا گیا تھا۔ یہ سیارہ موبائل سگنلز کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔علاوہ ازیں فوجی کمیونیکیشن نظام کو اس سے کافی استحکام حاصل ہونے والا تھا۔واضح ہو کہ اسرو کی خاموشی نے لوگوں کے دلوں میں شک و شبہات پیدا کردیئے ہیں ،تحقیقی مرکز اپنی ویب سائٹ پر سیاروں کی نقل حرکت اور تجربات سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…