جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چینی انجینئرز کا دھرنا، پورا ضلع بند کر دیا، پاکستانی اہلکاروں پر تشدد، غلطی کس کی تھی؟ جھگڑا کس بات پر شروع ہوا؟ چینی فوج سے منسلک افراد کیا کرتے رہے؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

خانیوال (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی اہلکاروں پر چینی انجینئرز کا تشدد اور چینی انجینئرز کے دھرنے نے پورا ضلع بند کر دیا، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور سے فیصل آباد جانے والی ایم فور موٹروے کی تعمیر کرنے والے چینی انجینئرز کا سیکیورٹی پولیس کے ساتھ تنازع شدت اختیار کرگیا، چینی انجینئرز نے سیکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کیا جبکہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد سڑک بھی بلاک کر دی۔

خانیوال میں موٹر وے ایم 4 کی تعمیر کا عمل بڑی تیزی سے جاری ہے تاہم گزشتہ شب چینی انجینئرز پولیس سیکیورٹی کے بغیر اپنے نورپور کیمپ سے باہر جانا چاہتے تھے۔ ان چینی انجینئرز کو نورپور کیمپ کے سیکیورٹی انچارج نے باہر جانے سے منع کر دیا جس کے بعد چینی انجینئرز اور چینی ورکرز نے نورپور میں موجود پولیس کیمپ کی گزشتہ شب بجلی کاٹ دی۔ آج صبح چینی انجینئرز اور ورکرز نے احتجاجاً ضلع خانیوال میں ایم 4 کے تمام منصوبوں پر نہ صرف کام بند کردیا بلکہ کبیر والا، شام کوٹ، نورپور، مخدوم پور روڈ سمیت اہم شاہراہوں کو بھی ہیوی مشنیری کے ذریعے بلاک کر دیا، جس کے باعث پورا ضلع بند ہوگیا۔ چینی مزدوروں کے احتجاج کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ مسافروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورت حال کو قابو کرنے کے لیے ڈی پی او رضوان عمر گوندل نے چینی انجینئرز کے ساتھ مذاکرات کیے جو کئی گھنٹے تک جاری رہے اور ناکام ہو گئے۔ ٹی وی ذرائع کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کے بعد چینی مزدوروں نے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز کو احتجاج کرنے والے چینی انجینئرز نے لکھے گئے ایک خط میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار انہیں کام کرنے سے روک رہے ہیں اور ان پر حملہ بھی کر دیا۔ نجی ٹی وی چینل کو موصول ہونے والی ویڈیو کے مطابق چینی مزدور سیکیورٹی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں،

بعد میں چینی انجینئرز پولیس وین پر چڑھ کر غیر اخلاقی حرکت کرنے لگے جبکہ کمیپ میں انہوں نے پولیس سیکیورٹی اہلکار کو احتجاج کے دوران شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ چینی کمپنی کی جانب سے دی گئی درخواست میں موقف سامنے آیا ہے کہ چینی مزدوروں نے جب کمیپ سے باہر جانے کی اجازت طلب کی تو انھیں پنجاب پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے اہلکاروں نے منع کردیا۔ چینی کمپنی نے موقف اختیار کیا کہ ایس پی یو کے اہکاروں نے چینی مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا تاہم پولیس اہلکاروں نے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے اس کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…