جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

حمزہ شہباز کے کہنے پر یہ کام کیوں کیا گیا؟ کیا پنجاب حکومت کو کوئی اور بندہ نہیں ملتا؟ کیوں نہ شیخ زید ہسپتال کا کنٹرول ہم خود ہی سنبھال لیں؟ چیف جسٹس نے بڑاحکم جاری کردیا

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شیخ زید ہسپتال میں خلاف قانون تعیناتی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ شیخ زید ہسپتال کا کنٹرول بھی خود سنبھال لیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہائی کورٹ میں اس معاملے پر زیرالتواء مقدمات ایک ہفتے میں نمٹانے کا حکم دے دیا۔

اس موقع پر عدالت نے کہا کہ شیخ زید ہسپتال کی صوبے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا جائے گا، ہسپتال 18ویں ترمیم کے بعد صوبے کو منتقل کیا گیا، کیوں نہ شیخ زید ہسپتال کا کنٹرول خود سنبھال لیں،چیف جسٹس نے کہا کہ بورڈ آف گورنرز کو تحلیل کردیتے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ حمزہ شہباز کے کہنے پر شیخ زید ہسپتال کے چیئرمین فرید خان کو توسیع دی جا رہی ہے، اس کی مدت ملازمت میں توسیع کیوں کی گئی، عدالت نے کہا کہ کیا پنجاب حکومت کو کوئی اور بندہ نہیں ملتا، بورڈ آف گورنرز کو فرید خان اتنا کیوں محبوب ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اپنے ہسپتالوں کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، شیخ زید ہسپتال کو برباد کرکے رکھ دیا گیا ہے، عدالت نے کہا کہ انشاء اللہ ملک میں کوئی طبی ادارہ برباد نہیں ہو گا۔ اس موقع پر سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نے عدالت کو چیئرمین فرید احمد خان کو توسیع نہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شیخ زید ہسپتال میں خلاف قانون تعیناتی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ شیخ زید ہسپتال کا کنٹرول بھی خود سنبھال لیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہائی کورٹ میں اس معاملے پر زیرالتواء مقدمات ایک ہفتے میں نمٹانے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر عدالت نے کہا کہ شیخ زید ہسپتال کی صوبے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا جائے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…