ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

قصور میں گزشتہ سال 5 سالہ ننھی بچی ایمان فاطمہ کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے جھوٹے الزام میں جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان مدثرکا قتل،اعلیٰ عہدیدار سمیت6پولیس اہلکاروں کی شامت آگئی

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی ) مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں قصور کے رہائشی نوجوان مدثر کے کیس میں سابق ڈی او ناصررضوی سمیت 6پولیس اہلکاروں کے نام ای سی ایل میں شامل کردئیے گئے ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے مذکورہ کیس میں ازخود نوٹس لے رکھا ہے ۔مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے کیس میں جن پولیس اہلکاروں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں سابق ڈی او قصورناصررضوی ،ڈی ایس پی عارف رشید ،ایس ایچ اوزیاض عباس ، طارق بشیر چیمہ ،یونس ڈوگر

اور کانسٹیبل محمد اشرف شامل ہیں ۔یادرہے کہ قصور میں گزشتہ سال 5 سالہ ننھی بچی ایمان فاطمہ کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا ، پولیس نے مدثر نامی نوجوان کو گرفتار کیا اور فروری 2017 میں جعلی پولیس مقابلہ کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ایک سال تک ننھی ایمان فاطمہ کا خون بے گناہ مدثر کے کندھوں پر ہی رہا لیکن زینب قتل کیس کے بعد ملزم عمران ارشد کے اقبالی بیان اور ڈی این اے ٹیسٹ سے مدثر کی بے گناہی ثابت ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…