جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

لوگوں کو فیصلوں کا انتظار،چیف جسٹس دودھ کی کوالٹی چیک کر رہے ہیں،نوازشریف پھر عدلیہ پر برس پڑے

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (سی پی پی) سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں،سارا کام چیف جسٹس کے ہاتھ میں دے دینا چاہئے،لوگوں کو فیصلوں کا انتظار،چیف جسٹس دودھ کی کوالٹی چیک کر رہے ہیں، الیکشن کے التواکی گنجائش نہیں، کوئی نظریہ ضرورت قبول نہیں کیا جائیگا، مکروہ گیم میں نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں، عمران خان نے زرداری کو بیماری قرار دیا اور کہا تھا کہ ہاتھ نہیں ملاوں گا، سیاستدان کا کوئی

اصول اور موقف ہونا چاہیے۔ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے موقع پر نوازشریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے لیے پہنچے۔سماعت سے قبل میڈیا سے غیر رسمی گفتگوکر تے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں ہونیوالی تبدیلیاں مشکوک ہیں، چیئرمین سینیٹ مشکوک شخص کو بنا دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اندرکی کہانی نہیں جانتالیکن زرداری جوکام کررہے ہیں وہ شرمناک ہے۔ عمران خان بتائیں کیاانکے لوگوں نے ڈپٹی چیئرمین کیلیے تیرکے نشان پرمہرنہیں لگائی۔نواز شریف نے مزید کہا کہ عمران خان بتائیں کیا ان کے لوگوں نے ڈپٹی چیئرمین کے لیے تیر کے نشان پر مہر نہیں لگائی، اندر کی کہانی نہیں جانتا لیکن زرداری جو کام کر رہے ہیں وہ شرمناک ہے۔سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا ہے کہ چیف جسٹس سے ملاقات کے حوالے سے وزیراعظم سے بات نہیں ہوئی، ہوئی تو آگاہ کروں گا۔نوازشریف کا کہنا ہے کہ مجھے بیمار اہلیہ کی عیادت کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی گئی، ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ مشاورت کے لیے میرا اہلیہ کے پاس ہونا ضروری ہے۔ایک صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ جج صاحب نے کہا تھا آپ کے پاس 5دن تھے آپ جا سکتے تھے، آپ کیوں نہیں گئے؟

جس پر نوازشریف نے جواب دیا کہ لندن جانے اور آنے میں 2دن لگتے ہیں اور ان دنوں ویک اینڈ تھا، وہاں کے ڈاکٹرز ہفتہ اور اتوار کو مشاورت نہیں کرتے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تو مجھے بیمار اہلیہ سے ملنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی،جب ملک سیباہرجاوں گاتوباہرکی باتیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران ہزاروں میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئی، جب تک میں وزیراعظم تھا لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی تھی۔

لوڈ شیڈنگ کی دورانیہ کے بڑھنے پر حکومت سے بات کروں گا۔کس کمپنی کے واجبات ادا کرنے ہیں یا لوڈ شیڈنگ کی کیا وجہ ہے ،یہ بھی معلوم کروں گا۔نواز شریف کا مزید کہنا ہے کہ الیکشن کے التواکی گنجائش نہیں، کوئی نظریہ ضرورت قبول نہیں کیا جائیگا،ملک انگریزوں سے آزاد کرا کے مارشل لاؤں میں قید کروا دیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشکوک کاموں کا وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہیے، جنہوں نے ووٹ خریدے وہ کیا جواب دیں گے

کیونکہ وہ خریدے ہوئے لوگ ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ لوگ فیصلوں کا انتظارکر رہے ہیں اورچیف جسٹس دودھ کی کوالٹی چیک کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ملاقات کے بار ے میں کوئی بات نہیں ہوئی،ہوئی توآگاہ کروں گا۔انہوں نے کہا کے ڈاکٹرزنے کہاتھامشاورت کیلیے میرااہلیہ کے پاس ہوناضروری ہے۔مجھے بیماراہلیہ کی عیادت کیلیے جانیکی اجازت نہیں دی گئی۔ صحافی کے سوال جج صاحب نے کہا تھا کہ آپکے پاس 5 دن تھے آپ جا سکتے تھے جس پر نواز شریف نے کہا لندن جانے اور آنے میں دو دن لگتے ہیں، اور ان دنوں میں ویکینڈ تھا، ڈاکٹرز ہفتہ اور اتوار مشاورت نہیں کرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…