جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

یوٹیوب ہیڈ کوارٹرپر حملہ،گولیوں کی تڑتڑاہٹ، ہر طرف بھگدڑ ،ایمرجنسی نافذ،واقعہ کی ابتدائی تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

کیلیفورنیا(اے این این) امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب کے ہیڈکوارٹر میں خاتون ملازمہ نے فائرنگ کرکے اپنے 4 ساتھی ملازمین کو زخمی کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔غیرملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوٹیوب ہیڈ کوارٹر میں 36 سالہ خاتون ملازمہ نے نامعلوم وجوہات کے باعث پہلے دفتر میں اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو خاتون اور دو مرد ساتھی ملازمین زخمی ہوگئے اور بعد ازاں

خاتون نے خود کو بھی گولی مار لی اور موقع پر ہی دم توڑ دیا۔فائرنگ کے آواز سنتے ہی معروف ویب سایٹ یوٹیوب کے ہیڈکوارٹر میں بھگدڑ مچ گئی اور سیکیورٹی الارم بجنے کے بعد پولیس نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے عمارت کا گھیراUW کر لیا اور ملازمین کو باحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئے جب کہ ریسکیو ادارے نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا۔مقامی میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے افراد میں سے ایک ملزمہ کا بوائے فرینڈ ہے اور شاید فائرنگ کی وجہ بھی یہی شخص ہے تاہم ملزمہ کا بوائے فرینڈ اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے جس کے باعث پولیس ابھی تک بیان قلم بند نہیں کر سکی ہے تاہم پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے عینی شاہدین کے بیان قلم بند کر لیے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے سماجی رابطے کی وئیب سایٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فوری ردعمل کے تعریف کرتے ہوئے واقعہ کے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب یو ٹیوب کی سی ای او سوسان ووجکیکی نے اپنے بیان میں کہا کہ دفتر میں ہونے والے واقعے کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، پولیس کے فوری ردعمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ،

افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ ہمدردی ہے، ہم پھر سے ایک خاندان کی طرح کام کرنا شروع کریں گے۔تاہم ابھی تک پولیس نے ساتھی ملازمین کو زخمی کرکے خودکشی کرنے والی خاتون ملازمہ کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی زخمیوں تک کسی کو رسائی دی جارہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح خاتون ملازمہ ہیڈکوارٹر میں کیسے داخل ہوئیں اور ان کے پاس اسلحہ کہاں سے آیا سمیت کیس کی مختلف پہلووں پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم پہلی ترجیح زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…