منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ہماری خارجہ پالیسی کا محور دفاع کی بجائے اقتصادیات ہونا چاہئے، ماہرین

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام اقتصادی سیاست کے ذریعے خطے میں تبدیلی کے موضوع پر ہفتہ وار سیمینار میں ماہرین نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کا محور دفاع کی بجائے اقتصادیات ہونا چاہئے۔سیمینار سے اظہار خیال کرتے ہوئے ہارون شریف نے کہا کہ دنیا بھر میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو کہ گذشتہ 30برسوں میں خطے میں واضح دیکھی جا سکتی ہیں۔

عالمگیریت کے دور میں ممالک اپنے خطے میں رابطوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور نئے رحجانات کو اہمیت دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے عالمی اداروں کی طرف سے پاکستان کو راہنمائی فراہم نہیں کی گئی کہ وہ اپنی درست سمت متعین کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترجیحات کے پیش نظر پاکستان اور چائنیز کے رحجانات میں واضح تبدیلی آئی ہے جو کہ بڑھ کر وسطی ایشیاء تک جا رہی ہے۔ اب پاکستان بھارت اقتصادی تعاون غیر اہم ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فقط تجارت سے اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہے۔ جب تک اس میں سرمایہ کاری شامل نہ ہو اور دونوں عناصر مل کر پائیدار اقتصادی ترقی کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کو نفرت کا خاتمہ کر کے اقتصادی ترقی کے لئے پھر سے سوچنا چاہئے۔ ہارون شریف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تین شعبہ جات میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیشہ وارانہ استعداد کار میں اضافہ کرے اور اقتصادی پالیسی کو تبدیل کرے۔ اقتصادی پالیسی کے ڈھانچے کو بہتر کر کے نجی شعبہ کو شامل کیا جائے۔ پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کے لئے سفارت کاری برائے اقتصادیات بہت اہم ہے۔ ہماری شرح نمو کی رفتار طویل عرصہ سے تبدیل نہ ہو سکی جب کہ ہماری آبادی میں بڑا حصہ نوجوان نسل کا ہے جو کہ ملک کا اصل سرمایہ ہے اس سرمایہ کا بہترین مصرف مہارت کی تشکیل سے ممکن ہے اس سے شرح نمو میں مثبت تبدیلی آسکے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سیکورٹی کو اعلیٰ بصارت سے انسانی اور انفرادی تحفظ کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ اس پر سنجیدگی سے غور خوض کر کے اپنے انتخابی منشور کا اہم جزوبنائیں ۔ اقتصادی تحفظ آج کی اہم ضرورت ہے۔ سینئیر تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کے رحجانات میں تبدیلی عالمی تغیرات کا حصہ ہے۔ جو کہ نو آبادیاتی عمل اور اس کے جزیات ہیں۔ پوری دنیا میں ہونے والے اس عمل میں روس کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی دفاع کے گرد گومتی ہے جبکہ اب یہ تبدیلی جو کہ انسانی اور معاشی رحجان اختیار کر چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…