بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

انگلیاں چٹخانے کی آواز کا ‘معمہ’ ایک صدی بعد حل

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک)انگلیوں کے جوڑ چٹخانا اکثر افراد کی عادت ہوتی ہے مگر ایسا کرنے پر اتنی تیز آواز کیوں آتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے عرصے سے سائنسدانوں کو پریشان کرکے رکھا ہوا تھا۔اب آخر کار سائنسدانوں نے یہ راز جاننے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔ ہاتھ میں چھپا ہے کئی امراض کا علاج اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں ایک ریاضیاتی ماڈل کے ذریعے تعین کیا گیا کہ کتنے ننھے بلبلے، جو پھٹ کر انگلیاں چٹخانے پر آواز پیدا کرتے ہیں۔

اس عمل میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس ماڈل کے دوران جوڑوں کی حرکت سے پیدا ہونے والے دباﺅ کو پیدا کیا گیا، جس کے نتیجے میں انگلیوں کی طرح مائیکرو اسکوپک بلبلے پھٹے۔ انگلیاں چٹخانے سے پیدا ہونے والی آواز کا معمہ 20 ویں صدی کے آغاز سے سائنسدانوں کو الجھن میں ڈالے ہوئے تھا۔ اس سے پہلے یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ہاتھ میں ننھے بلبلے آواز پیدا کرتے ہیں جبکہ کچھ رپورٹس میں کہا گیا کہ چٹخانے کے بعد بھی یہ بلبلے موجود رہتے ہیں۔ مگر اب نئی تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ انگلیاں چٹخانے کی آواز پیدا کرنے کے لیے ان بلبلوں کے جزوی حصوں کا پھٹنا ہی کافی ہوتا ہے۔ اسے ثابت کرنے کے لیے انگلیوں کے جوڑ کا ریاضیاتی ماڈل بنایا گیا اور اسے اس طرح استعمال کیا گیا جس طرح اپنی انگلیاں چٹخانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انگلیاں ہر وقت ٹھنڈی کیوں رہتی ہیں؟ سائنسدانوں نے جانا کہ دباﺅ کی سطح میں تبدیلیاں ان بلبلوں کے پھٹنے کا باعث بنتی ہیں جو کہ جوڑوں کے سیال میں پائے جاتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق کسی بھی آواز کو پیدا کرنے کے لیے تمام بلبلوں کے پھٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس تجربے کا اطلاق حقیقی زندگی میں کای گیا اور معلوم ہوا کہ انسانوں میں بھی یہ عمل ایسے ہی ہوتا ہے اور یہ بلبلے ہی آواز پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج جریدے سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔ اور ہاں انگلیاں چٹخانے کی عادت کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔

کہ یہ جوڑوں کے امراض یا دیگر طبی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ تاہم کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس حوالے سے قابل اعتبار شواہد موجود نہیں کہ انگلیاں چٹخانا کسی قسم کے مسئلے کا باعث بنتا ہے۔ دوسری جانب کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا کہ اس عادت کے کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے مگر محققین کے بقول اس کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…