جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

نواز شریف کو اپنی علیل بیگم کی عیادت کی اجازت بھی نہ دیں اور جنرل مشرف جعلی کمر درد کا بہانہ کرکے دبئی میں بیٹھے رہیں،میاں نواز شریف کو چیف جسٹس کی طرف سے وزیراعظم کیلئے فریادی کے لفظ پر اعتراض ہے‘ کیا یہ اعتراض درست ہے‘جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

آج وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ نے ٹڈاپ سکینڈل میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کر دی‘ آج میاں نواز شریف بھی احتساب عدالت میں پیش ہوئے‘ آپ دیکھئے ملک کے دو منتخب وزراء اعظم عدالتوں میں کھڑے ہو کر کس طرح مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں نہ ڈرنے‘ نہ جھکنے والے جنرل پرویز مشرف نے عدالتی حکم کے باوجود ملک میں واپس آنے سے انکار کر دیا‘ میاں نواز شریف اپنی جماعت کی حکومت ہوتے ہوئے بھی ہفتے میں چار دن عدالت میں پیش ہوتے ہیں‘

گیلانی صاحب بھی ہر سمن پر عدالت میں ہوتے ہیں اور راجہ پرویز اشرف بھی ہر پیشی پر پیش ہو جاتے ہیں لیکن جنرل پرویز مشرف لندن اور دوبئی میں بیٹھ کر پاکستانی عدالتوں کے احکامات کو سگار کے دھوئیں میں (اڑا) رہے ہیں‘ کیوں؟ کیا ہماری عدلیہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ‘جی ہاں کوئی جواب موجود ہے‘ نواز شریف کے کیس میں جج کو ایکسٹینشن مل جاتی ہے لیکن مشرف کے کیس کا بینچ ہی ٹوٹ جاتا ہے‘ کیوں؟ اگر ہم ملک میں واقعی کوئی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں انصاف اور احتساب دونوں اکراس دی بورڈ کرنا ہوں گے ورنہ ہم اس اپروچ کے ساتھ ملک کو زیادہ دیر نہیں چلا سکیں گے کہ ہم نواز شریف کو اپنی علیل بیگم کی عیادت کی اجازت بھی نہ دیں اور جنرل مشرف جعلی کمر درد کا بہانہ کرکے دوبئی میں بیٹھے رہیں‘ وہ عدالت میں پیش ہونے سے صاف انکار کر دیں اور عدلیہ اور ریاست خاموش بیٹھی رہی‘ یہ انصاف نہیں‘ یہ عدل نہیں‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، آج چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، کئی سائل آتے ہیں میں ان کی بات سن لیتا ہوں‘ میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے‘ میاں نواز شریف کو چیف جسٹس کی طرف سے وزیراعظم کیلئے فریادی کے لفظ پر اعتراض ہے‘ کیا یہ اعتراض درست ہے‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…