ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کو اپنی علیل بیگم کی عیادت کی اجازت بھی نہ دیں اور جنرل مشرف جعلی کمر درد کا بہانہ کرکے دبئی میں بیٹھے رہیں،میاں نواز شریف کو چیف جسٹس کی طرف سے وزیراعظم کیلئے فریادی کے لفظ پر اعتراض ہے‘ کیا یہ اعتراض درست ہے‘جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

آج وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ نے ٹڈاپ سکینڈل میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کر دی‘ آج میاں نواز شریف بھی احتساب عدالت میں پیش ہوئے‘ آپ دیکھئے ملک کے دو منتخب وزراء اعظم عدالتوں میں کھڑے ہو کر کس طرح مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں نہ ڈرنے‘ نہ جھکنے والے جنرل پرویز مشرف نے عدالتی حکم کے باوجود ملک میں واپس آنے سے انکار کر دیا‘ میاں نواز شریف اپنی جماعت کی حکومت ہوتے ہوئے بھی ہفتے میں چار دن عدالت میں پیش ہوتے ہیں‘

گیلانی صاحب بھی ہر سمن پر عدالت میں ہوتے ہیں اور راجہ پرویز اشرف بھی ہر پیشی پر پیش ہو جاتے ہیں لیکن جنرل پرویز مشرف لندن اور دوبئی میں بیٹھ کر پاکستانی عدالتوں کے احکامات کو سگار کے دھوئیں میں (اڑا) رہے ہیں‘ کیوں؟ کیا ہماری عدلیہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ‘جی ہاں کوئی جواب موجود ہے‘ نواز شریف کے کیس میں جج کو ایکسٹینشن مل جاتی ہے لیکن مشرف کے کیس کا بینچ ہی ٹوٹ جاتا ہے‘ کیوں؟ اگر ہم ملک میں واقعی کوئی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں انصاف اور احتساب دونوں اکراس دی بورڈ کرنا ہوں گے ورنہ ہم اس اپروچ کے ساتھ ملک کو زیادہ دیر نہیں چلا سکیں گے کہ ہم نواز شریف کو اپنی علیل بیگم کی عیادت کی اجازت بھی نہ دیں اور جنرل مشرف جعلی کمر درد کا بہانہ کرکے دوبئی میں بیٹھے رہیں‘ وہ عدالت میں پیش ہونے سے صاف انکار کر دیں اور عدلیہ اور ریاست خاموش بیٹھی رہی‘ یہ انصاف نہیں‘ یہ عدل نہیں‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، آج چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، کئی سائل آتے ہیں میں ان کی بات سن لیتا ہوں‘ میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے‘ میاں نواز شریف کو چیف جسٹس کی طرف سے وزیراعظم کیلئے فریادی کے لفظ پر اعتراض ہے‘ کیا یہ اعتراض درست ہے‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…