جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس وزیراعظم ملاقات۔۔جسٹس ثاقب نثار نے خاموشی توڑ دی۔۔وزیراعظم نے ملاقات میں کیا درخواست کی جس کے جواب میں میں نے انہیں کیا جواب دیا؟چیف جسٹس نے سب بتا دیا

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ میٹنگ سے کھویا کچھ نہیں ،پایا ہی ہے ،ہم یہاں معاملات میں مداخلت کیلئے نہیں بیٹھے، عدلیہ کے ادارے اوروکلاا پنے اس بھائی پر اعتبار کریں، اپنے ادارے اوروکلا کو مایوس نہیں کروں گا، وہ فریاد سنانے آئے تھے مگر دیاکچھ نہیں ، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا سپریم کورٹ میں غیر قانونی تعمیرات کیس کے دوران سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں غیر قانونی تعمیرات کیس کے دوران معروف قانون دان اور پیپلزپارٹی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پہلی بار وزیراعظم شاہد خاقان سے ملاقات کے حوالے سے دبے الفاظ میں مکالمہ کیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گزشتہ میٹنگ سے کھویا کچھ نہیں ،پایا ہی ہے ،ہم یہاں معاملات میں مداخلت کیلئے نہیں بیٹھے ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اپنے ادارے اوروکلا کو مایوس نہیں کروں گا،عدلیہ کے ادارے اوروکلاا پنے اس بھائی پر اعتبار کریں،چیف جسٹس نے کہا کہ میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے،وہ فریاد سنانے آئے تھے مگر دیاکچھ نہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں یہاں سائل کی تکلیف کو سننے کیلئے بیٹھا ہوں جو کہ میری ذمہ داری ہے۔ سردار لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس سے کہا کہ جسٹس (ر)عبدالرشید والی صورتحال تھی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سر عبدالرشید ملاقات کیلئے چل کر گئے جبکہ میں نے ان کے گھر جانے سے انکار کر دیا جس کے بعد وہ میرے گھر چل کر آئے ۔واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم نے اچانک اٹارنی جنرل کے ذریعے چیف جسٹس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا جسے چیف جسٹس نے دیگر ججز سے مشاورت کے بعد قبول کرلیا تھا۔ وزیراعظم چیف جسٹس سے ملاقات کیلئے بغیر پروٹوکول سپریم کورٹ پہنچے جہاں ان کی چیف جسٹس سے ون آن ون ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہی ۔ ملاقات کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم اور چیف جسٹس ملاقات کا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…