بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

یہ عادت دماغ کو بوڑھا ہونے سے بچائے

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) دن بھر میں ایک گھنٹے تک مراقبہ کرنا عمر بڑھنے سے ہونے والی دماغی تنزلی کے خلاف موثر ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا مراقبہ کرنا ایسی دماغی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جو لوگوں کی ذہنی صلاحیتوں کو عمر کے اثرات سے متاثر نہیں ہونے دیتیں۔

دماغ کو ہمیشہ اسمارٹ رکھنے میں مددگار عاداتخیال رہے کہ مراقبہ سنت نبوی بھی ہے۔7 سال تک جاری رہنے والی امریکی تحقیق میں مراقبے کے عادی افراد میں اس عادت کے طویل المعیاد فائدوں کا تجزیہ کیا گیا۔عمر بڑھنے کے نتیجے میں دنیا بھر میں کروڑوں افراد دماغی تنزلی کا شکار ہوتے ہیں تاہم مراقبہ کرنا دماغ کو بوڑھا ہونے سے بچاتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ایسے 60 افراد کی ذہنی صلاحیتوں کو جانچا گیا جو کہ مراقبے کو عادت بناچکے تھے۔سات سال بعد محققین نے ان رضاکاروں سے پوچھا کہ اتنے برسوں میں انہوں نے کتنا وقت مراقبے کے لیے صرف کیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ 85 فیصد افراد نے اتنے برسوں تک روزانہ ایک گھنٹہ اس عادت کے لیے مختص کیا۔اس کے بعد ان کے ذہنی ردعمل اور توجہ کی صلاحیت کا ٹیسٹ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ان کی دماغی صلاحیتیں عمر بڑھنے سے متاثر نہیں ہوئیں بلکہ ان میں کچھ بہتری آئی۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ عادت درمیانی عمر کے افراد کے لیے اپنانا فائدہ مند ہے تاکہ وہ مختلف دماغی امراض سے بچ سکیں۔ دماغ کو تیز بنانے والے 18 سپرفوڈاس سے پہلے ایک اور امریکی تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اس عادت کے نتیجے میں دماغ کے ان حصوں کو فائدہ ہوتا ہے جو یاداشت، توجہ اور خیالات کے لیے ضروری ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں دماغ معلومات کا تجزیہ تیزی سے کرپاتا ہے۔موجودہ تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مراقبے کے اثر کی اصل وجہ معلوم کی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…