جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف کی اہم رہنما فوزیہ قصوری نے بھی بغاوت کر دی، بنی گالا میں کیا ہو رہا ہے؟ پارٹی سربراہ عمران خان پر سنگین الزامات عائد کر دیے

datetime 28  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رہنما فوزیہ قصوری نے اخبار میں اپنے چھپنے والے مضمون میں کہا کہ تحریک انصاف اپنا انقلابی نظریہ بھلا بیٹھی ہے، فوزیہ قصوری نے مضمون میں مزید لکھا کہ تحریک انصاف اب اپنے سیاسی نظریے کے مخالف راستے پر گامزن ہے۔ فوزیہ قصوری نے ایک اخباری مضمون میں لکھا کہ 2011ء میں تحریک انصاف ایک انقلابی نظریے کے ساتھ سڑکوں پر نکلی لیکن کچھ ناقابل بیان واقعات رونما ہوئے اور اپنے سیاسی نظریے کے مخالف راستے پر چل نکلی۔

فوزیہ قصوری نے کہا کہ آج ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تحریک انصاف کی بقاء کو زیادہ سنگین خطرات لاحق ہیں کیوں کہ اس کا مستقبل ایک شخص کی قسمت سے جڑا ہوا ہے۔ اپنے مضمون میں فوزیہ قصوری نے لکھا کہ شاید مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی قیادت برقرار رہے کیوں کہ وہاں موروثی سیاست ہے، تحریک انصاف میں جمہوریت یا کوئی نظام نہیں جو اس کے جلد خاتمے کی وجہ بن سکتا ہے۔ فوزیہ قصوری نے لکھا کہ پارٹی کے حامیوں نے اس لیے ہماری حمایت کی کیوں کہ پارٹی چیئرمین نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پی ٹی آئی کو شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کی طرح ادارہ بنائیں گے، جب الیکٹوریٹ نے خیال کیا کہ پی ٹی آئی غریب اور متوسط طبقے کی جماعت ہے تو ہم نے دیگر سیاسی جماعتوں سے مفاد پرستوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا شروع کردیا۔ تحریک انصاف کی خاتون رہنما فوزیہ قصوری نے کہا کہ قیادت یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ 2013ء کے انتخابات میں کامیابی کے لیے یہ سیاست دان ضروری ہیں لیکن اندرونی اختلافات کی وجہ سے پارٹی 2013ء کے انتخابات ہار گئی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ تحریک انصاف کو ایک ادارہ بنانے میں ناکامی نے ملک بھر میں کارکنوں کو بد دل کیا، پنجاب میں پیپلز پارٹی اور سندھ میں ایم کیوایم کے خلا کو پر کرنے میں ناکامی نے معاملات مزید خراب کیے۔فوزیہ قصوری نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک ایسی قیادت جس کی زیادہ تر سیاسی حکمت عملی کا دارومدار عدلیہ پر ہے،

اس نے اپنی پارٹی کے آئین کو مکمل نظرانداز کیا۔ پارٹی ٹکٹ کی فراہمی سے پارٹی پوزیشنز تک ہر چیز کا فیصلہ فرد واحد کرتا ہے اور اس کے لیے مرکزی مجلس عاملہ کو ربڑ سٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ بنی گالہ کے ان دربانوں کی جانب عمران خان کا جھکاؤ کسی بھی طرح پارٹی کے مفاد میں نہیں۔ عمران خان کو اب سمجھنا ہوگا کہ ان ارب پتی افراد نے فراہمی انصاف کے لیے کھڑی کی گئی ہماری تحریک کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں مزید لکھا کہ سب سے اہم بات یہ کہ ہم کون ہوتے ہیں کہ ووٹرز کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ تحریک انصاف کے ایجنڈے کو اپنائے جب کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ بے ہنگم ہجوم کی طرح سیاسی مخالفین کی کردار کشی کریں، ہمیں ایک ادارہ بنانا تھا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تحریک انصاف اب ایک شخصیت کے گرد موجود گروہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…