جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

چین کا خلائی اسٹیشن بے قابو، کس تاریخ کو زمین سے ٹکرانے والا ہے؟دنیا کی بڑی آبادی خطرے کی زد میں آگئی

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چین کا خلائی ستیشن تیانگونگ قابو سے باہر ہو گیا، تیزی سے زمین کی سمت بڑھ رہا ہے، آئندہ چند دنوں میں کسی بھی وقت زمین پر گر جائے گا، 30مارچ سے 2اپریل کے درمیان زمین پر کس ملک میں گرے گا، ماہرین کا تجزیہ جاری، دنیا کی بڑی آبادی کو خطرات لاحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق چین کا پہلا خلائی ستیشن تیاگونگ قابو سے باہر ہو گیا

اور تیزی سے زمین کی سمت بڑھ رہا ہے اور ماہرین کے مطابق 30مارچ سے 2اپریل کے درمیان کسی بھی وقت زمین پر گر سکتا ہے، تیا نگونگ خلائی اسٹیشن 9.4 ٹن وزنی ہے جب کہ اس کی لمبائی 34 فٹ اور چوڑائی 11 فٹ ہے۔ اسے تقریباً دو سال تک خلاء میں رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر لگانے کےلیے بنایا گیا تھا۔مارچ 2016 میں چینی سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ تنانگونگ نے ڈیٹا بھیجنا بند کردیا ہے جس کے بعد خلائی اسٹیشن زمین پر موجود ماہرین کے کنٹرول سے باہر ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خلائی اسٹیشن بے قابو ہوکر زمین پر واپس گرجائے گا۔یورپی خلائی ایجنسی سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق، تیانگونگ کے مدار کی حاصل کردہ معلومات مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ خلائی اسٹیشن 30 مارچ سے 2 اپریل کے درمیان کسی بھی وقت زمین پر گرسکتا ہے۔ لیکن یہ کہاں گرے گا؟ اس بارے میں بہت بے یقینی ہے۔ اب تک لگائے گئے حساب کتاب کے مطابق، تیانگونگ 1 خطِ استوا سے 43 درجے جنوب سے لے کر 43 درجے شمال تک، کسی بھی جگہ گر سکتا ہے۔ یہ علاقہ وسطی چین سے لے کر آسٹریلیا کے انتہائی جنوبی سرے تک کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ تشویشناک یہ ہے کہ دنیا کی بڑی آبادی ان ہی علاقوں میں آباد ہے۔سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ خلائی اسٹیشن کا بڑا حصہ زمینی فضا میں واپس داخل ہوتے وقت یعنی اپنی ’’ری اینٹری‘‘

کے دوران، زمینی فضا سے زبردست رگڑ کے باعث جل کر راکھ ہوجائے گا اور بیرونی کرہ ہوائی میں بکھر جائے گا۔ لیکن پھر بھی خلائی اسٹیشن کے کچھ سخت اور مضبوط حصے زمین تک ضرور پہنچ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…