جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

ڈپٹی کمشنر گجرانوالہ کی ہلاکت میں شہباز شریف اور خرم دستگیر کا کیا کردار ہے؟ قتل کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟ معروف صحافی نےتہلکہ خیز انکشاف کر ڈالے

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جواں سال ڈی سی گوجرنوالہ سہیل احمد ٹیپو کی موت کے ذمہ دار شہباز شریف اور خرم دستگیر نکلے، سینئر صحافی ہارون الرشید کے تہلکہ خیز انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ، تجزیہ کار و کالم نگار ہارون الرشید نے نجی ٹی وی پروگرام میں گوجرانوالہ کے جواں سال ڈی سی سہیل احمد ٹیپو کی موت سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ

انتہائی مصدقہ ذرائع کے مطابق کچھ روز پہلے مبینہ طور پر خود کشی کرنے والے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل ٹیپو نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ ان کے ذہن پر دو چیزوں کا خوفناک دباؤ ہے۔ایک تو یہ کہ شہباز شریف نے کوئی جلسہ کیا ہے جس کے ایک کروڑ روپے کے اخراجات میں نےادا کرنے ہیں، دوسرا وزیر دفاع خرم دستگیر نے سرکاری زمین سستے داموں اپنے نام کرانے کیلئے ایڈیشنل کمشنر سے دستخط کرالیے ہیں جس کے بعد وہ فائل میری میز پر پڑی ہے لیکن میں اس پر دستخط نہیں کرنا چاہتا۔ہارون الرشید نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نے خودکشی کی یا انہیں قتل کیا گیا ہے، اس کا تعین عدالتیں اور تحقیقات کرنے والے کریں۔واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل ٹیپو کی ان کے گھر سے پنکھے سے لٹکتی لاش ملی تھی، پہلے اسے خودکشی سمجھا جاتا رہا لیکن جب ان کی لاش کی تصویر سامنے آئی تو یہ واضح ہوا کہ ان کے ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز سہیل احمد ٹیپو کی موت کو خودکشی قرار دینے کیلئے ان کا پوسٹمارٹم کرنے کیلئے پنجاب پولیس کے افسران کے ساتھ ایک کانسٹیبل کے ذریعےگلے میں پھندا ڈال کر خودکشی سے قبل ہاتھ باندھنے کی فرضی پریکٹس بھی کرائی گئی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ ڈاکٹر سہیل احمد ٹیپو کی موت کو قتل کے

بجائے خودکشی قرار دیں جبکہ سول لائن تھانہ گوجرانوالہ کے ڈیوٹی آفیسر نے بھی پوسٹمارٹم رپورٹ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اس کا کہنا تھا کہ پوسٹمارٹم رپورٹ موصول ہو گئی ہے جبکہ اس حوالے سے افسران بالا ہی میڈیا کو بریفنگ دینگے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…