جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ڈی سی گوجرانوالہ نے خودکشی کی یا انہیں قتل کیا گیا،معمہ حل کر لیا گیا پوسٹمارٹم کرنے والے ڈاکٹروں نے میڈیکل کی تاریخ کا چونکا دینے والا انکشاف کر ڈالا، ہاتھ پیچھے کیوں بندھے ہوئے تھے؟اصل حقیقت کیا نکلی

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی خود کُشی کا معمہ حل کر لیا گیا، پولیس افسران کی موجودگی میں رات گئے کانسٹیبل کے ذریعے ہاتھ باندھ کرڈاکٹروں کے سامنے خود کُشی کرنے کی فرضی پریکٹس کئے جانے کا انکشاف۔ پولیس اہلکار نے خود ہی اپنے ہاتھ باندھ کر خود کُشی کرنے کی فرضی مشق کی جس پر ڈاکٹروں سمیت دیگر افسران کو یقین ہو گیا

کہ مقتول خود اپنے ہاتھ باندھ کر خودکشی کر سکتا ہے۔ ہاتھ باندھ کر خود کُشی کرنے کی فرضی مشق صرف یہ دیکھنے کے لیے کی گئی تھی تاکہ یہ پتہ کیا جا سکے کہ آیا ہاتھ باندھ کر کسی شخص کا خود کُشی کرنا ممکن بھی ہے یانہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈی سی او گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو گذشتہ دو ہفتوں سے ڈپریشن کا شکار تھے ۔ انہوں نے کمشنر گوجرانوالہ کو تحریری طور پر لکھ کر بھی دیا تھا کہ انہیں ڈی سی او کہ عہدے سے ہٹا دیا جائے لیکن ان کا تبادلہ نہیں کیا گیا ۔ خودکُشی کے روز سہیل احمد ٹیپو نے اپنی اہلیہ سے 9 بج کر 30 منٹ پر بات کی اور ساری رات جاگتے رہے۔3 بجے اپنے والدین کو اُٹھا کر سہیل احمد ٹیپو نے کہا کہ چھت پر کوئی بکری ہے یا کچھ اور ہے آوازیں آ رہی ہیں اگر کوئی آواز آئے تو پریشان نہیں ہونا۔ ذرائع نے بتایا کہ سہیل احمد ٹیپو نے اپنے والدین کو ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا تاکہ خود کُشی کے وقت اگر اس کی آواز نکلےبھی تو بھی والدین پریشان نہ ہوں۔ دوسری جانب یہ بات سامنے آئی کہ کمشنر گوجرانوالہ نے کچھ عرصہ قبل نفسیاتی ڈاکٹرز کا ایک پینل بُلوا کر سہیل احمد ٹیپو کا دو گھنٹے تک چیک اپ کروایا۔جس کے بعد ڈاکٹرز نے کہا کہ سہیل احمد ٹیپو ڈپریشن کا شکار ہیں۔ انہیں دوائی کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سہیل احمد ٹیپو کو گھریلو معاملات سے متعلق کوئی ڈپریشن نہیں تھا، محکمہ میں

کسی افسر کی ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ وہ ذہنی طور پر پریشان ہو گئے ہوں۔ تاہم رپورٹس میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سہیل احمد ٹیپو کی ہلاکت کا معاملہ 100 فیصد خود کُشی کا معاملہ ہے۔دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈی سی گوجرانوالہ کی موت کے بعد ان کے ماموں کی جانب سے تھانہ سول لائن میں درج کروایا گیا قتل کا مقدمہ دراصل محکمہ کی جانب سے

دوران ڈیوٹی فوت یا قتل ہوجانے والے ملازمین کو دی جانیوالی امداد کیلئے کٹوایا گیا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی حاضر سروس سرکاری ملازم خودکشی کر لے تو محکمہ کی طرف سے امداد نہیں ملتی۔تھانہ سول لائن کے مطابق پوسٹمارٹم رپورٹ میں خود کُشی ثابت ہو گئی ہے ، تاہم ابھی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی جبکہ مقدمہ بھی قتل کا ہی درج کیا گیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…