ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف نے کیسے اپنے دوسرے وزارت عظمیٰ کے دور میںآج کے چیف جسٹس اور اس وقت کے سیکرٹری لا کو لیگی کارکنوں کی کھلی کچہری لگا کر بے عزت کیا، کھلی کچہری میں جسٹس ثاقب نثار کیساتھ کیا سلوک کیا گیا، جاوید چوہدری کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 23  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم میں نواز شریف کے دوسرے وزارت عظمیٰ کے دور میں آج کے چیف جسٹس اور اس وقت کے سیکرٹری لا ثاقب نثار کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نواز شریف اور جسٹس ثاقب نثار کے درمیان اختلافات اور دوریاں پیدا شدت اختیار کر چکی تھیں۔ جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ اس وقت کے

وزیراعظم نواز شریف کو حکومت کے سیکرٹری لا ثاقب نثارکے خلاف بھڑکانے میں اس وقت کے اٹارنی جنرل کا اہم کردار تھا، وہ آئی بی کے سپریم کورٹ میں لگے کیسز پر پیش ہونے کیلئے آئی بی سے 35لاکھ روپے فیس وصول کرنا چاہتے تھے جس پر آئی بی کے سربراہ نے سیکرٹری لا ثاقب نثار سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں جسٹس صمدانی کو وکیل کرنے کی اجازت دے دیں‘ میاں ثاقب نثار نے فوراً منظوری دے دی‘ اٹارنی جنرل شکار ہاتھ سے نکلنے پر لاء سیکرٹری کے خلاف ہو گئے‘ یہ ان سے لڑ پڑے‘انہوں نے وزیراعظم کے کان بھی بھر دیئے‘وزیراعظم پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے بے شمار وکلاء‘ کارکنوں اور ایم این ایز کو بھی لاء سیکرٹری پر اعتراضات تھے‘ وزیراعظم نے ایک دن اٹارنی جنرل سمیت تمام شکایات کنندگان کو وزیراعظم آفس طلب کر لیا‘ یہ دو اڑھائی سو لوگ تھے‘ وزیراعظم نے ان سب کو آڈیٹوریم میں جمع کیا‘ لاء سیکرٹری میاں ثاقب نثار کو بلایا اور کھلی کچہری لگا دی‘ اٹارنی جنرل سمیت ہر شخص وزیراعظم کو اپنی شکایت سناتا تھا اور وزیراعظم لاء سیکرٹری سے پوچھتے ”جی میاں صاحب جواب دیں“ زیادہ تر شکایات تقرریوں سے متعلق تھیں‘شکایت کنندگان کا کہنا تھا‘ ہم پرانے مسلم لیگی ہیں‘ ہماری حکومت ہے‘ آپ نے مجھے فلاں ڈیپارٹمنٹ میں لاء آفیسر بنانے کا حکم دیا تھا لیکن لاء سیکرٹری نے

آپ کے حکم کی پرواہ نہیں کی‘ لاء سیکرٹری کا جواب ہوتا تھا ”سر ان کی ڈگری جعلی ہے‘ ان کا تجربہ پورا نہیں‘ میں انہیں کیسے لگا دوں“ لیکن کارکنوں کا کہنا تھا‘ وزیراعظم سپریم ہیں‘ ان کا حکم آخری ہونا چاہیے‘ میاں ثاقب نثار نے وہاں کھڑے کھڑے فیصلہ کر لیا میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ ”کھلی کچہری“ ختم ہوئی تو یہ خالد انور سے ملے اور اپنا استعفیٰ پیش کر دیا‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…