جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

چیف جسٹس اور نواز شریف کے درمیان اختلافات کس نے پیدا کئے، جسٹس ثاقب نثار جب لا سیکرٹری تھے تو انہوں نے ایسا کیا کام کیا تھا کہ نواز شریف کے قریبی ساتھی ان کے خلاف ہو گئے تھے؟

datetime 23  مارچ‬‮  2018 |

سلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم میں نواز شریف کے دوسرے وزارت عظمیٰ کے دور میں آج کے چیف جسٹس اور اس وقت کے سیکرٹری لا ثاقب نثار کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نواز شریف اور جسٹس ثاقب نثار کے درمیان اختلافات اور دوریاں پیدا کرنے میں اس وقت کے اٹارنی جنرل نے اہم کردار ادا کیا۔

جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ چودھری فاروق(مرحوم) میاں نواز شریف کی دوسری حکومت میں اٹارنی جنرل تھے‘ اس زمانے میں آئی بی کی سترہ درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھیں‘ چودھری منظور ڈی جی آئی بی تھے‘ یہ ایک دن لاء سیکرٹری کے پاس آئے اور کہا ہم نے اٹارنی جنرل سے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی درخواست کی ہے لیکن یہ 35لاکھ روپے فی کیس مانگ رہے ہیں‘ہم نے چیف جسٹس سے درخواست کی‘ یہ ہماری تمام درخواستوں کو اکٹھا کرنے کیلئے تیار ہیں‘ ہم نے جسٹس (ریٹائر) صمدانی کو وکیل کر لیا ہے‘ یہ پانچ لاکھ روپے میں ہماری تمام درخواستوں میں پیش ہو جائیں گے‘ ہم یہ پانچ لاکھ روپے بھی خود ادا کریں گے‘ لاء ڈیپارٹمنٹ پر بوجھ نہیں پڑے گا‘ آپ بس ہمیں جسٹس صمدانی کو وکیل کرنے کی اجازت دے دیں‘ میاں ثاقب نثار نے فوراً منظوری دے دی‘ اٹارنی جنرل شکار ہاتھ سے نکلنے پر لاء سیکرٹری کے خلاف ہو گئے‘ یہ ان سے لڑ پڑے‘انہوں نے وزیراعظم کے کان بھی بھر دیئے۔اس سے قبل 1997ء میں ہائی کورٹ کے ایک جج مجیب اللہ صدیقی ٹریبونل کے سربراہ تھے‘ یہ حیات ہیں اور کراچی میں رہتے ہیں‘لاء سیکرٹری تمام ٹریبونلز کا باس ہوتا ہے‘ مجیب اللہ صدیقی میاں ثاقب نثار کے پاس آئے اور ان سے کہا ”آپ میرے باس ہیں‘ آپ باس کی حیثیت سے یقینا مختلف مقدموں میں مختلف لوگوں کی سفارش کریں گے‘

میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں‘ میں آپ کی کوئی سفارش قبول نہیں کروں گا چنانچہ آپ سفارش کر کے خود کو اور مجھے شرمندہ نہ کیجئے گا“ میاں ثاقب نثار مجیب اللہ صدیقی کی بات سن کر خوش ہو گئے‘ انہوں نے انہیں یقین دلایا ”میری طرف سے آپ کو کبھی کوئی سفارش نہیں آئے گی“صدیقی صاحب شکریہ ادا کر کے چلے گئے‘ یہ چند دن بعد دوبارہ تشریف لائے اور لاء سیکرٹری سے کہا

”سر پشاور میں ٹریبونل کے ایک ممبر کی شہرت بہت خراب ہے‘ میرے پاس اس کے خلاف شکایات کا ڈھیر لگا ہے‘ میں اسے کراچی ٹرانسفر کرنے لگا ہوں‘ یہ بہت رسائی والا شخص ہے‘ آپ پر شدیددباؤ آئے گا“ میاں ثاقب نثار نے جواب دیا ”آپ بے خوف ہو کر تبادلہ کریں‘ میں کسی قیمت پر کوئی دباؤ قبول نہیں کروں گا“ مجیب اللہ صدیقی نے ممبر کا تبادلہ کر دیا‘ یہ تبادلہ بھڑوں کا چھتہ ثابت ہوا‘

پہلے فاٹا کے ارکان اسمبلی لاء سیکرٹری کے پاس آئے‘ پھر کے پی کے کے سینیٹرز اور ایم این ایز آنے لگے اور آخر میں سیاسی جماعتیں بھی میدان میں کود پڑیں لیکن ثاقب نثار نے صاف انکار کر دیا‘ اس دوران حکومت اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی‘ حکومت کو سیاسی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت پڑ گئی چنانچہ فاٹا اور اے این پی کے ارکان نے

ممبر کے تبادلے کا نوٹی فکیشن واپس لینے کی شرط رکھ دی‘ وزیراعظم نے پورا زور لگا دیا لیکن لاء سیکرٹری نہ مانے یہاں تک کہ سی بی آر (اب ایف بی آر) کے چیئرمین معین الدین درمیان میں آئے‘انہوں نے ممبر کو کسٹم میں واپس لیا اور پھر سی بی آر کے ذریعے اس کا تبادلہ پشاور کر دیایوں یہ بحران ٹلا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…