جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

خشک سالی، زیر زمین پانی کی سطح گر نے سے پاکستان کاکونسا صوبہ صحرا میں تبدیل ہوسکتا ہے،ماہرین نے وارننگ جاری کردی

datetime 22  مارچ‬‮  2018 |

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان میں خشک سالی اور زیر زمین پانی کی سطح گر جانے سے قلت آب کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیمز اور ری چارجنگ پوائنٹس نہ بنائے گئے تو صوبہ صحرا میں تبدیل ہوجائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں نصف صدی قبل کاریز اور چشموں کا پانی دور دور تک بہتا دکھائی دیتا تھا اور 20 سے 25 فٹ کے فاصلے پر کنوؤں کی کھدائی پر پانی نکل آتا تھا تاہم

پھر صوبے میں بجلی کے آتے ہی دھڑا دھڑ ٹیوب ویل لگنا شروع ہوگئے۔دوسری جانب حکومت نے نہ تو ڈیمز بنائے اور نہ ہی غیر قانونی ڈرلنگ کو روکنے کیلئے قانون سازی کی ٗاب صورتحال یہ ہے کہ اس وقت صوبے کے طول وعرض میں 6 ہزار سے زائد ٹیوب ویلز پانی نکال رہے ہیں اور رہی سہی کسر طویل خشک سالی اور آبادی کے اضافے نے پوری کر دی ہے۔بلوچستان میں خشک سالی اور زیر زمین پانی کی سطح دو ہزار فٹ تک گر جانے سے بیشتر اضلاع میں زراعت تباہ ہوکر رہ گئی ہے جبکہ کوئٹہ اور گوادر کے باسیوں کو پینے کے پانی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ماہرین نے یہ کہہ کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے سے زمین سالانہ 10 سینٹی میٹر دھنس رہی ہے۔کوئٹہ کے باسیوں کو پانی فراہم کرنے والے ادارے واسا کے حکام کے مطابق کوئٹہ میں پانی کی ضرورت 5 کروڑ گیلن روزانہ ہے مگر واسا کی جانب سے شہریوں کو 3 کروڑ گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے ٗ 2 کروڑ گیلن پانی کی قلت کا سامنا ہے۔کوئٹہ شہر میں واسا کے 417 ٹیوب ویلز ہیں جن میں 100 کے لگ بھگ ٹیوب ویلز خراب ہوچکے ہیں۔واسا حکام کے مطابق کوئٹہ میں پانی کی قلت دور کرنے کیلئے منگی ڈیم پر کام جاری ہے، جو 2 سال میں مکمل ہو جائے گا،

اس ڈیم سے شہر کو یومیہ 8 کروڑ گیلن پانی مل سکے گا، جس سے شہر میں پانی کا مسئلہ کچھ عرصے کے لیے حل ہوجائے گا۔ماہرین آب کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت جو پانی استعمال کیا جارہا ہے وہ آئندہ نسلوں کے حصے کا پانی ہے۔قلت آب کے باعث صوبے سے لوگوں کی ہجرت روکنے کے لیے حکومت کو ڈیموں اور ری چارجنگ پوائنٹس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ایک جامع آبی پالیسی بھی نافذ کرنا ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…