جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

کتنے فیصد لڑکیاں سکول نہیں جاتیں؟بلند و بانگ دعوے کرنیوالی خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

datetime 22  مارچ‬‮  2018 |

پشاور(اے این این ) غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کے شعبہ تعلیم کے حوالے سے پیش کی گئی ایک رپورٹ پیش میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ صوبے بھر میں 51 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں۔نجی ٹی وی کے مطابق الف اعلان نامی تنظیم کی اس رپورٹ میں خیبرپختونخوا میں 5 برسوں کی تعلیمی چلینجز اور اصلاحات کا جائزہ لیا گیا، اس رپورٹ کی تقریب رونمائی میں تعلیم کے وزیر محمد عاطف خان

اور دیگر ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔رپورٹ میں پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹ اسٹکس کے 16-2015 کے اعداد و شمار کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں لڑکیاں زیادہ نقصان میں ہیں اور 51 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتی۔رپورٹ میں صوبائی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اسکولوں میں کلاس رومز، چار دیواری، پینے کا پانی اور واش رومز سمیت دیگر ترقیاتی کاموں پر 30 ارب روپے خرچ کیے۔اس رپورٹ کے مطابق انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں خیبرپختونخوا دیگر صوبوں کی بنسبت سب سے آگے ہے، تاہم سب سے بڑا چیلنج پرائمری اسکول کے تمام بچوں کو اسکول جانے کا اختیار دینے کا ہے اور حکومت کے لیے سب سے اہم چلینج 10 سے 16 سال کے بچوں کو ہائی اور ہائر سیکینڈری اسکول بھیجنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ تمام اسکولوں میں سے 9.76 فیصد مڈل اسکول اور 8.13 فیصد ہائی اسکول موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ فرق بہت اہم ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت 5 سال سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو تعلیم کا حق ہے۔اس کے مطابق پرائمری اسکول مڈل اور ہائی اسکول کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ ہیں ان کا تناسب 4:1 ہے اور ہائی اسکول کے مقابلے میں پرائمری اسکول میں داخلوں کی تعداد میں

کچھ حد تک جبکہ ہائی اسکول میں کافی حد تک بہتری دیکھی گئی۔پرائمری اسکول میں داخلوں کی شرح داخلوں کی شرح بڑھ کر 4.54 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ مڈل اسکول میں یہ شرح 2.3 فیصد اور ہائی اسکول میں 26.96 فیصد رہی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے تعلیم کے معیار میں کمی پر بھی توجہ مرکوز نہیں کی گئی جبکہ خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعلیمی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ہنگامی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…