جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس کا بعد از مرگ اپنے اعضا عطیہ کرنےکا اعلان،چیف جسٹس کے کونسے اعضا اب ان کی وفات کے بعد مستحقافراد کو دئیے جائیں گے، دکھی پاکستانیوں کیلئے جسٹس ثاقب نثار کے جذبے نے سب کو حیران کر دیا

datetime 17  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ایس آئی یو ٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اعضا بعد از مرگ ایس آئی یو ٹی عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میرے اعضا کتنے مضبوط اور صحت مند ہیں تاہم دکھی انسانیت کیلئے میں بعد از مرگ اپنے اعضا عطیہ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

اس سے قبل چیف جسٹس نے کراچی رجسٹری میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انسانی اعضاء کا غیر قانونی کاروبار تشویشناک صورتحال ہے اس کاروبار کو چلانے والے کون ہیں؟ کاروبار کرنے والے ڈاکٹروں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟ حکومتیں کیوں مانیٹر نہیں کرتیں؟ ۔ہفتہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ کے ڈاکٹر ادیب رضوی عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت ڈاکٹر ادیب رضوی سے مکالمہ کیا کہ ہمیں گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری کوروکنا ہوگا، ڈاکٹرز حضرات ہماری معاونت کریں۔ڈاکٹر ادیب رضوی نے عدالت کو بتایا کہ مؤثر قانون سازی نہ ہونے پر گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری جاری ہے اور غیرقانونی اعضا کی پیوند کاری میں پاکستان کا شمار اگلے نمبروں پر ہوتا ہے، غیر قانونی پیوند کاری روکنے کیلئے مؤثر قانون سازی بھی ضروری ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ڈاکٹر ادیب رضوی سے استفسار کیا کہ کہ غیر قانونی اعضاکی پیوند کاری کیلئے فوری کیا کیاجاسکتا ہے؟ آپ ہمیں سفارشات دیں ہم کارروائی کا حکم دیں گے، یہ انتہائی اہم معاملہ ہے

کل بھی چلائیں گے اور انسانی اعضاء عطیات کرنے کیلئے مؤثر قانون سازی کی ہدایت دیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لاء جسٹس کمیشن موجود ہے اس معاملے پر اسے بھی فعال کریں گے، میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے، میڈیا سے کہیں گے کہ اشتہارات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ انسانی اعضاء کا غیر قانونی کاروبار تشویشناک صورتحال ہے

ٗ لوگ غربت کے باعث انسانی اعضاء بیچنے پر مجبور ہیں، اس کاروبار کو چلانے والے کون ہیں؟ کاروبار کرنے والے ڈاکٹروں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟ حکومتیں کیوں مانیٹر نہیں کرتیں؟ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پنجاب میں پیوند کاری پر کام ہوا ہے کئی سینٹرز بنائے گئے، اگر قوانین میں ترمیم کرنی ہے تو کم از کم بتایا تو جائے، سوشل میڈیا پر کچھ اچھے کچھ خرافات پیغامات ہوتے ہیں،

سوشل میڈیا اس مقصد کیلئے کیوں استعمال نہیں کرتے؟ ہمارے اختیار میں جو کچھ ہوا تعاون کریں گے، وکلا، ریٹائرڈ جج اور سول سوسائٹی اس کام میں آگے آئیں۔چیف جسٹس نے ڈاکٹر ادیب رضوی کے وکیل منیر اے ملک کو ورکشاپ ترتیب دینے اور سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت دی۔ جسٹس ثاقب نثار نے ڈاکٹر ادیب رضوی سے مکالمہ کیا کہ مجھے آپ لوگوں کی مدد چاہیے ٗ اللہ ہمیں طاقت دے کہ ہم آپ کی مدد کریں،

ہمیں یہ اب موقع مل رہا ہے آپ نے تو پوری زندگی اس کام میں وقف کردی، آپ ایک جید کام کر رہے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری روکنے کے لیے سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی بھی ترتیب دے دی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈاکٹر ادیب رضوی اور دیگر کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آپ میرا چیمبر استعمال کرسکتے ہیں، آپ لوگ ہوم ورک کریں ہمیں بتائیں ابھی حکم دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…