ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عجب کرپشن کی غضب کہانی۔۔کروڑوں کا غبن مریم نواز کا ایک اور بڑامالیاتی سکینڈل سامنے آگیا

datetime 15  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تعلیمی اصلاحات کیلئے سابق خاتون اول کی جانب سے مریم نواز کو عطیہ کئے گئے 9ارب روپے کا خصوصی آڈٹ کرائے جانے کا امکان۔ 9ارب میں سے کروڑوں روپے کی بدعنوانی کا انکشاف سامنے آگیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران انہوں نے اپنی اہلیہ کلثوم نواز اور صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ امریکہ کا دورہ کیا تھا۔

اس وقت امریکہ کے صدر باراک اوبامہ تھے ، ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کی اہلیہ اور امریکہ کی سابق خاتون اول مشعل اوبامہ نے پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کیلئے مریم نواز کو 9ارب روپے کی امداد عطیہ کی تھی۔ یہ رقم پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے مختلف پروگرام میں مریم نواز کی صوابدید پر خرچ کی جانی تھی تاہم اب انکشاف سامنے آیا ہے کہ تعلیمی اصلاحات کی مد میں سابق امریکی خاتون اول کی جانب سے عطیہ کی گئی 9ارب روپے میں سے کروڑوں روپے بدعنوانی کی نذر ہو گئے ہیں جس پر اس رقم کا خصوصی آڈٹ کرائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آڈٹ کاامکان پیدا ہوتے ہی وزارت کیڈ نے اربوں روپے کی کرپشن چھپانے کے لئے کاغذات میں ردو بدل کرنا شروع کر دیا خصوصی آڈٹ کرانے کے فیصلے کی روشنی میں 9 ارب روپے ہیں بھاری کرپشن کرنے والے اعلیٰ افسران میں کھلبلی مچی ہوئی ہے متعلقہ ریکارڈ میڈیا سے چھپانے کیلئے خصوصی الزامات وزارت کیڈ کے متعلقہ شعبہ میں میڈیا نمائندوں کے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ایجوکیشن ریفارنسز کے لئے امریکن امداد کو وزیر کیڈ طارق فضل چودہدری نے 423 سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہمی کے لئے خرچ کرناتھا جس کی نگرانی سابق نا اہل وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز کر رہی تھی ۔

ابتدائی طور پر 22 ماڈل سکولوں کیلئے وزیراعظم ایجوکیشن پروگرام کے تحت 120 ملین روپے سے زائد رقم جاری کی گئی لیکن ان سکولوں میں چند ایک سکولوں کے علاوہ باقی سکولوں میں صرف علامتی طور پر کام کیا گیا اس کے علاوہ باقی 200 سکولوں کے لئے بھی ٹینڈر کیا گیا اورایک ارب 74 کروڑ 20لاکھ روپے مختص کئے گئے اور وزارت کیڈ نے مبینہ طور پر ایڈ کے بی اور سچل نامی کمپنیوں کو یہ ٹھیکہ دیا گیا

ذرائع نے مزید بتایا کہ ان دونوں کمپنیوں کو کام شروع کرنے سے پہلے 13 کروڑ روپے جاری کی گئی تھی اور 25 فیصد بطور کمیشن مبینہ طور پر ان کمپنیوں نے ادائیگی کی تھی اب تک 9 ارب روپے میںجتنا بھی کام کیا گیا ہے اس پر آڈیسٹر جنرل نے آڈٹ کا فیصلہ کر لیا ہے اور مبینہ کرپشن کی مکمل جانچ پڑتال عمل میںلائی جائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…