جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

عمران اور زرداری کو سنجرانی ہاؤس کا پتہ کس نے بتایا ،نوازشریف کے سوال نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

datetime 15  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میں لڑائی کے حق میں نہیں اور چاہتا ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے، جو کچھ سینیٹ میں ہوا وہ تماشا پوری قوم نے دیکھا، کوئی بتائے کہ عمران خان اور آصف زرداری کو سنجرانی ہاس کا پتہ کس نے بتایا،محمود اچکزئی نے قبائل کے احتجاج میں جو بات کی اس پر انکوائری ہونی چاہئے،وہ نظام لے کرآئیں گے جوملک کی ضرورت ہے، موجودہ نظام میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے،

جامع نظام عدل لانے کے لئے کام کررہے ہیں، انصاف نہ ملنا یا دیرسے ملنا ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ جو کچھ سینیٹ میں ہوا وہ تماشا پوری قوم نے دیکھا، کوئی بتائے کہ عمران خان اور آصف زرداری کو سنجرانی ہاؤس کا پتہ کس نے بتایا، کہا گیا کہ سب سنجرانی ہاؤس پہنچیں اور وہاں ایک صادق نامی شخص ہے اسے ووٹ دیں۔نواز شریف نے کہا کہ میں لڑائی کے حق میں نہیں ہوں اور چاہتا ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے، کیا آئین و قانون کے مطابق ملک چلانے کی خواہش بری ہے۔سابق وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت کے معاملے پر محمود اچکزئی کے بیان کی انکوائری ہونی چاہیے، جن کا کہنا تھا کہ ایک افسر نے بلوچستان حکومت ختم کرائی۔صحافی نے سوال کیا کہ اعتزاز احسن نے کہا تھا آپ سازش کرنے والے کا نام لیں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے، آپ کو لگتا ہے وہ ساتھ کھڑے ہوں گے جس پر نواز شریف نے کہا کہ ہم بھی دیکھ رہے ہیں اورآپ بھی کہ کیا چل رہا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ بہت کچھ دیکھا ہے آدھی زندگی گزر گئی، اچھے اور برے تجربات دیگر سیاستدانوں کے ساتھ بھی ہوئے ان سے سیکھنا چاہیے، ملک و قوم کے لئے جو اچھا ہو اس سے دل خوش ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے سوا جن سیاستدانوں کے مقدمات ہیں ان پر کرپشن اور کِک بیکس کے الزامات ہیں، میرا مقدمہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں ایسا کوئی الزام نہیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ نظام لے کر آئیں گے جو ملک کی ضرورت ہے، موجودہ نظام عدل میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے، جامع نظام عدل لانے کے لئے کام کر رہے ہیں، انصاف نہ ملنا یا دیر سے ملنا ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ آپ کوئی کتاب لکھیں گے جس پر انہوں نے کہا کہ اپنے تجربات لکھنے چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…