جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف پر جوتے سے حملہ کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ وہ اب کہاں ہیں؟ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ ان کے ساتھ اب کیا ہو رہا ہے؟ انتہائی افسوسناک خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف پر جوتا پھینکنے والے ملزمان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں؟ جب جامعہ نعیمیہ میں سابق وزیراعظم پر جوتا پھینکا گیا تو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، ان ملزمان پر گڑھی شاہو تھانے میں لیگی کارکنوں نے حملہ کیا تو انہیں ریس کورس منتقل کر دیا گیا، اب ان ملزمان کو ریس کورس سے بھی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر جامعہ نعیمیہ میں جوتا پھینکنے والے شخص کے خلاف باقاعدہ مقدمہ اکبر نامی اے ایس آئی کی مدعیت میں تھانہ گڑھی شاہو میں درج کیا گیا، اس ایف آئی آر میں جوتا پھینکنے والے شخص سمیت تین افراد پر سولہ ایم پی او، 506 اور 355 دفعات کا اندراج کیاگیا ہے، ایف آئی آر میں مدعی اکبر نے لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جیسے ہی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرنے کے لیے ڈائس پر آئے تو قریب کھڑے ایک شخص علامہ حافظ منور نے جوتا نواز شریف کی طرف پھینکا جو ان کے بائیں کندھا پر جا کر لگا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی سی آئی اے نے تفتیش شروع کر دی ہے۔ گرفتار تینوں ملزمان سے ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کرنے اور اس سلسلے میں دیے گئے اسلام آباد دھرنے کے شرکاء پرریاستی ظلم و تشدد کی وجہ سے جوتا پھینکاتھا۔دریں اثنا سابق وزیراعظم نواز پر لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں تقریب کے دوران ایک شخص کی جانب سے جوتا پھینکا گیا جو ان کے سینے پر جالگا۔گڑھی شاہو میں سابق وزیراعظم نواز شریف جامعہ نعیمیہ کے زیراہتمام تقریب میں شریک ہوئے اور جب وہ خطاب کے لئے ڈائس پر آئے تو ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھالاجو مائیک پر لگنے کے بعد ان کے کاندھے سے رگڑ کھاتا ہوا نیچے جا گرا تھا۔ جوتا اچھالنے والے شخص کو وہاں موجود افراد نے پکڑ لیا  جسے تقریب سے باہر لے جانے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف صورتحال پر سخت پریشان ہیں اور فوراً اپنی رہائش گاہ روانہ ہو گئے۔تقریب کے دوران سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی ان کے ہمراہ تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…