اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے انسانی جسم کا ایک راز آخرکار جان لیا

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

امریکا  (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ نے کبھی سوچا کہ بیشتر افراد کو اپنے بچپن کی باتیں یاد کیوں نہیں رہتیں ؟ اگر کبھی یہ سوال ذہن میں آیا ہے تو آخرکار سائنسدانوں نے اس کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔ درحقیقت بیشتر افراد کو 5 سال کی عمر سے پہلے کی باتیں یا یادیں، یاد نہیں رہتیں۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ عام عادتیں جو آپ کو دماغی طور پر مضبوط بنادیں اسے چائلڈ ہڈ ایمنیسیا کہا جاتا ہے ۔جس کا مطلب ہے کہ لوگ 3 سال یا اس سے پہلے کی باتوں کو یاد نہیں رکھ پاتے۔

اب سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ بچپن میں دماغ زیادہ لچکدار ہوتا ہے اور کم وقت میں بہت زیادہ معلومات جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر دماغ کے وہ حصے جو معلومات کو برقرار رکھتے ہیں، عمر کے ساتھ ساتھ ‘زیرتعمیر’ رہتے ہیں۔ پیدائش سے نوجوانی کے آغاز تک، دماغ میں ضروری سرکٹ یا برقی راستے انسانوں کے اندر یادوں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران بچپن کی یادیں ناقابل رسائی ہوجاتی ہیں کیونکہ نیورونز بالغ دماغ میں ساخت کو بدلتے ہیں۔ ایموری یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ طویل المعیاد توجہ کا عمل ہے۔ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ لوگ 7 سال کی عمر سے پہلے کی یادوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ مگر پھر ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ساڑھے 5 سال کی عمر کے بچوں کو 3 سال کی عمر کی 80 فیصد باتیں یاد ہوتی ہیں، تاہم جب وہ 7 سال کی عمر تک پہنچتے ہیں تو یہ شرح 40 فیصد رہ جاتی ہے۔ دماغ کو ہمیشہ اسمارٹ رکھنے میں مددگار عادات یعنی بچوں کو باتیں یاد ہوتی ہیں مگر یادیں وقت کے ساتھ مٹنے لگتی ہیں۔ تاہم اب سائنسدانوں نے اس کا جواب ڈھونڈ لیا ہے اور ان کے مطابق چیزیں یاد رکھنے یا بھول جانے کے لیے ضروری دماغی حصے ہپوکیمپس میں نئے نیورونز کی نشوونما بچپن کی باتوں کو بھلا دیتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ رسائی کا مسئلہ ہے ، جب یادوں تک رسائی ناممکن ہوجاتی ہے تو وہ موثر طریقے سے ذہن سے خارج بھی ہوجاتی ہیں۔ دماغی نشوونما اور تنزلی کے اس عمل کے دوران بچپن کی جو یادیں باقی رہ جاتی ہیں، وہ درحقیقت ذہن میں کسی وجہ سے بار بار ابھرتی ہیں یا انہیں سنا ہوتا ہے یا خواب میں دیکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…