جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

شہبازشریف کا نواز شریف کے بارے میں قائد اعظم سے متعلق دعویٰ،پانامہ سکینڈل میں ملوث کوئی شخص‘ آمریت کے گملے سے جنم لینے والا کوئی سیاستدان قائداعظم کا وارث نہیں ہوسکتا،کیا واقعی اگلا الیکشن ووٹ کی عزت پر لڑا جائے گا؟جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

خواتین وحضرات ۔۔ آج پاکستان مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل نے میاں شہباز شریف کو نیا پارٹی صدر منتخب کر لیا‘ میاں شہباز شریف نے اپنی صدارتی تقریر میں دعویٰ کیا ’’ محمد نواز شریف کل بھی ہمارے قائد تھے،آج بھی ہمارے قائد ہیں اورکل بھی ہمارے قائد رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ میں دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ یہ صرف مسلم لیگ(ن) کی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستان بھر کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں

محمد نوازشریف جیسا قائدنصیب ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوازشریف ہی وہ پاکستانی سیاستدان اوررہنماء ہیں جنہیں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا سیاسی وارث قرار دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ محمد نوازشریف نے امریکہ کی جانب سے 5ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کو پایہ حقارت سے رد کیا اور قوم کے عظیم مفاد کو سامنے رکھا۔ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے سے لیکرملک کے طول وارض میں پھیلی ہوئی موٹر ویز اورکسانوں کیلئے اربوں روپے کے پیکیجزتک اورپھر عوام کو مسلح افواج کی قربانیوں اور بے مثال تعاون کے ذریعے دہشت گردی سے نجات دلانے سے لے کرلوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن کے پیش نظر مستقبل کا مورخ نوازشریف کو بانیان پاکستان کے بعد ہر اعتبار سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مدبر اور محترم رہنما تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا‘‘۔
ہم سب کو۔۔اس گندی سیاست میں قائداعظم جیسی پاک ہستی کو ملوث نہیں کرنا چاہیے‘ میرا ذاتی خیال ہے کوئی کھرب پتی شخص‘ کوئی لندن‘ جدہ اور دوبئی میں جائیدادوں اور کمپنیوں کا مالک‘ کوئی انڈسٹریلسٹ‘ پانامہ سکینڈل میں ملوث کوئی شخص‘ آمریت کے گملے سے جنم لینے والا کوئی سیاستدان اور قانون اور آئین کو اپنی سیاسی بقا کیلئے استعمال کرنے والا کوئی شخص قائداعظم کا وارث نہیں ہوسکتا‘ قائداعظم ایک ایسی ہستی تھے جنہوں نے اپنا سب کچھ ملک کیلئے وقف کر دیا تھا‘ جنہوں نے آخری سانس تک قانون کی پابندی کی‘ اپنے لئے دوسری ایمبولینس تک ائیر پورٹ لانے سے منع کر دیا اور اپنی ساری جائیداد‘ ساری دولت تعلیمی اداروں کیلئے وقف کر دی تھی‘ آپ ہزار ہزار ایکڑ کے محلات میں رہنے اور ورساشے کے صوفوں پر بیٹھنے والے لوگ قائداعظم کے وارث کیسے ہو سکتے ہیں‘

۔۔کتھے مہر علی ۔۔کتھے تیری ثناء لہٰذا میری درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر ۔۔اس سیاسی منڈی میں قائداعظم کا نام لینا بند کر دیں‘ آپ کوئی اپنا جد امجد تلاش کریں‘ (اس) کے وارث بنیں اور ہمارے قائد کو ہمارے لئے چھوڑ دیں‘ آپ (ان) کا نام آلودہ نہ کریں‘ یہ آپ کی ۔۔اس ملک پر بہت بڑی مہربانی ہو گی‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں۔کیا واقعی اگلا الیکشن ووٹ کی عزت پر لڑا جائے گا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ آج ایک اور جوتا چل گیا‘ آج گجرات میں علیم خان پر بھی جوتا پھینک دیا گیا‘ یہ افسوس ناک ٹرینڈ کہاں تک جائے گا‘ ہم اس پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…