جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف کو صرف ایک یا دو جوتے نہیں مارے گئے بلکہ ۔۔! تقریب میں موجود سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا ایسا انکشاف کہ کسی نے سوچاتک نہیں ہوگا

datetime 12  مارچ‬‮  2018 |

لاہور،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ نوازشریف پرجوتا پھینکنے والا شخص مولوی خادم حسین کاپیروکارہے،جب جوتا پھینکنے کا واقعہ پیش آیا تواس وقت نعرے بھی لگائے گئے کہ لبیک لبیک یارسول اللہ کے نعرے بھی لگائے گئے،نوازشریف پرایک جوتاپھینکا گیا تومختلف سمتوں سے مزید جوتے بھی پھینکے گئے،جو اسٹیج تک نہیں پہنچ پائے۔

انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں وہاں تقریب میں موجود تھامیں نے دیکھا کہ یہ 40یا50سال کاآدمی جس نے نواشریف پرجوتا پھینکا وہ اس وقت اسٹیج کی جانب آیا جب نوازشریف اسٹیج پرتقریر کرنے آئے۔جب اس شخص نے نوازشریف پرجوتا پھینکا تومختلف سمتوں سے اور بھی جوتے پھینکے گئے لیکن وہ وہاں تک پہنچ نہیں پائے۔انہوں نے بتایاکہ جب جوتا پھینکنے کا واقعہ پیش آیا تواس وقت نعرے بھی لگائے گئے کہ لبیک لبیک یارسول اللہ کے نعرے بھی لگائے گئے۔جن لوگوں نے نعرے لگائے وہ مولوی خادم حسین کی سوچ سے متاثر ہیں۔لیکن جنہوں نے نوازشریف کوتقریب میں مدعو کیا وہ جامعہ نعیمیہ والے ہیں جن کی سوچ نوازشریف کی فکر سے ملتی ہے۔دریں اثنا صدرِ مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ عدم برداشت کا رجحان ملک کو تباہی کی جانب گامزن کردے گا، عدم برداشت سے دہشت گردی کے خلاف کامیابی بھی ناکامی میں بدل سکتی ہے۔ صدر ممنون حسین نے جاری کردہ اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر دکھی ہوں، اس طرز کے سدباب کے لیے قوم کو یکجا ہونا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اختلاف شائستگی کی حد سے نکل جائے تو معاشرہ فسادی الارض کا شکار ہوجاتا ہے، اس صورت حال میں قوم کے درمیان ہوش و خرد کی آواز دب جاتی ہے، عدم برداشت کا خاتمہ نہ ہوا تو فرد اور ادارے کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔صدر مملکت نے کہا کہ یہی صورت حال رہا تو ہماری دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں ناکامی میں بدل سکتی ہے،

قوم میثاق اخلاق پر متحد ہوجائے، اختلاف کو نفرت میں بدلنے والا رویہ قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ممنون حسین کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کی صورت حال ملک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں البتہ حکومت ہر شہری کی جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت کرے۔خیال رہے کہ آج سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جامعہ نعیمیہ میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ایک شخص نے ان کی جانب جوتا پھینکا جو انہیں جالگا۔واقعے کے فوری بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس قسم کے واقعات کو عدم براداشت کا مادہ نہ ہونے سے تشبیہ دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…