جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ایسے نہیں جانے دینگے۔۔چیئرمین نیب کو میری ناراضگی اورناپسندیدگی سے آگاہ کر دیں۔۔چیف جسٹس نے اہم کیس میں جسٹس(ر) جاوید اقبال کو طلب کر لیا، وجہ ایسی کہ جان کر دنگ رہ جائینگے

datetime 12  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق جعلی و غیر معیاری ادویات کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیاہے۔ سماعت کے دوران ڈپٹی چیئرمین نیب عدالت

میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ نیب نے نوٹس واپس لے کر فیکٹری کیخلاف کارروائی ختم کردی ہے ۔ایڈیشنل پراسیکیوٹرنیب نے کہا کہ نیب کا نوٹس عدالتی حکم سے پہلے جاری ہوا جس پر ڈپٹی چیئرمین نیب نے کہا کہ غلط فہمی سے نوٹس جاری ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ ایسے نہیں جانے دیں گے بلکہ انکوائری کرکے رپورٹ دی جائے، نیب اپنے افسر عامر مارتھ کے اثاثوں کی انکوائری کرے، پراسیکیوٹرجنرل نیب خودعدالت میں پیش ہوں۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ نیب کل ڈریپ کیخلاف کارروائی کاتمام فائل ریکارڈدے۔ڈریپ افسران کوہراساں کرنے پر ایف آئی اے 15 روز میں تحقیقات کرے جبکہ ڈریپ ڈی آئی جی رفعت مختارکیخلاف ایف آئی اے کودرخواست دے۔چیف جسٹس نے ڈپٹی چیئرمین نیب کو کہا کہ چیئرمین نیب کو میری ناراضی وناپسندیدگی سے آگاہ کردیں، کیا چاہتے ہیں ہم چیئرمین نیب کو طلب کریں؟ چیئرمین نیب میرے چیمبرمیں پیش ہوں۔اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ تکلیف دہ بات ہے کہ جعلی ادویات کے معاملے پر کام نہیں ہوا ،ایک آدمی بیمار ہے اور بجائے اسے شفا ہو مزید بیمار ہو جاتا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رکنی بینچ نے

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کی ۔آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اورریجنل پولیس آفیسر بہاولپور راجہ رفعت مختار پیش ہو ئے ۔ آئی جی پنجاب نے موقف اپنایا کہ آر پی او بہاولپور پر جعلی ادویات کے معاملے پر اپنے برادر نسبتی کی سپورٹ کا الزام غلط ہے ۔جبکہ فاضل عدالت کا کہنا تھاکہ ہماری اطلاعات کے مطابق آر پی او نے اپنے برادر نسبتی کی سپورٹ کی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو جعلی ادویات کے معاملے پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ تکلیف دہ بات ہے کہ جعلی ادویات کے معاملے پر کام نہیں ہوا ۔ایک آدمی بیمار ہے بجائے اسے شفا ہو مزید بیمار ہو جاتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے کہنے پر ایک افسر نے فیکٹری پر چھاپہ مارا اور نیب نے کل اسے نوٹس جاری کر دیا۔لگتا ہے یہ بہت طاقتور لوگ ہیں

لیکن اس معاملے میں کسی کو اثر و رسوخ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے کسی کے ذاتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا اپنے بہن بھائیوں سے تعلق رہتا ہے ، اللہ سب کواپنے حقوق کے لیے لڑنے کی جرات دے۔فاضل بینچ نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے جعلی ادویات پر تفتیش کر کے مفصل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…