جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں، خواجہ آصف کا منہ کالا کرنے والا ن لیگ کا ہی کارکن نکلا، اعترافی بیان، اس نے خواجہ آصف کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کا منہ کالا کرنے والے شخص کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، جس میں اس نے کہا کہ میرا نام فیض الرسول ہے اور میرا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں شروع سے ن لیگ کا ووٹر ہوں اور ہمیشہ ن لیگ کو سپورٹ کیا۔ میں گھر سے سیدھا فیکٹری جاتا ہوں اور فیکٹری سے گھر جاتا ہوں۔ میں شروع سے ہی ان کا ووٹر تھا،

فیض الرسول نے کہا کہ یہ لوگ ہر جگہ جا کر بتاتے ہیں کہ یہ سڑک ہم نے بنائی یہ پل ہم نے بنایا، یہ سکول بنایا یہ ہسپتال بنایا، اپنے ترقیاتی کاموں کے بارے میں تو بتاتے ہیں، انہوں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے ختم نبوت پر انہوں نے حملہ کیا، انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ اگر یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں تو اسمبلیوں میں کیوں جاتے ہیں۔ فیض الرسول نے کہا کہ آپ لوگ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں آپ نے اپنی ڈیوٹی دی آپ اچھے انسان ہوں جنہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی ڈیوٹی دی۔ ان کا فرض بنتا ہے کہ یہ لاکھوں ووٹ لے کر ایک شہر کی ترجمانی کر رہے ہیں کم از کم جو قانون بنا ہے اس کو پڑھ تو لیں اگر انہوں نے پڑھ کر دستخط کیے ہیں تو یہ مجرم ہیں اور اگر انہوں نے اس کو پڑھا ہی نہیں اور دستخط کیے ہیں تو یہ اس سے بڑے مجرم ہیں۔ فیض الرسول نے کہا کہ پھر تو جو مرضی اس سے کاغذ پر دستخط کروا لے۔ یہ لوگ راجہ ظفرالحق رپورٹ شائع کریں۔ جو جو مجرم ہیں ان کو سزا ملے۔ آج میں نے جرم کیا ہے مجھے مار دیں میرے بیوی بچوں کو مار دیں کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ لوگ پبلک میں کسی جگہ بھی جائیں گے ان کے ساتھ ایسا ہی ہو گا۔ جب تک یہ لوگ توبہ نہیں کرتے یہ لوگ عوام میں نہ جائیں۔ فیض الرسول نے کہا کہ محمد عربیؐ کے شیروں نے انہیں کسی جگہ پر نہیں چھوڑنا۔ اس نے کہاکہ مجھے وہ ذات کھینچ کر وہاں لے گئی کہ تم آج گھر نہ جاؤ بلکہ ادھر آؤ۔ میری ماں شوگر کی مریض ہیں انہیں انسولین لگانی ہوتی ہے لیکن میں نہ جا سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…