جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

معاف کر نا سب سے بہتر ین انتقا م ہے ٗ ملالہ کا خود پر حملہ کر نے والے لوگوں کو معاف کر نے کا اعلان

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

لندن (این این آئی)دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ انہوں نے خود پر حملہ کرنے والے لوگوں کو معاف کردیاکیونکہ معاف کرنا ہے کہ سب سے بہترین انتقام ہے۔دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم و خواتین کی خودمختاری کے حوالے سے خدمات سر انجام دینے والی پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے یہ بات انٹرنیٹ اسٹریمنگ سروس نیٹ فلیکس کے ایک شو میں کہی۔انٹرویوکے دور ان ملالہ یوسف زئی

نے نہ صرف خود پر ہونے والے حملے سے متعلق گفتگو کی، بلکہ آکسفورڈ میں اپنی تعلیم، برطانیہ سے اپنے آبائی علاقے منگورہ واپسی، عالمی سیاسی صورتحال، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمان ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے کی پابندی اور لڑکیوں میں تعلیم سمیت دیگر عالمی مسائل پر بھی بات کی۔ملالہ یوسف زئی نے ڈیوڈ لیٹرمین کی جانب سے خود پر ہونے والے حملے کے حوالے سے کہا کہ انہیں ہر طرح سے تمام چیزیں ٹھیک طرح یاد نہیں کہ اس دن کیسے اور کیا ہوا تھا؟۔ملالہ یوسف زئی نے خود پر ہونے والے حملے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن جب انہیں ہوش آیا اور ان کی آنکھیں کھلیں تو انہوں نے خود کو ایک مختلف ملک میں پایا، جہاں ان کے آس پاس انگریزی زبان بولنے والے ڈاکٹرز اور نرسز موجود تھیں۔انہوں نے کہاکہا انہوں نے صرف اتنا پوچھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور وہ یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ وہ اسکول کی بس میں اسکول کے دوستوں کے ساتھ تھیں، تاہم اب وہ ہسپتال میں ہے۔نوبل انعام یافتہ لڑکی نے کہا کہ ان کی پختون روایات کے بعد مطابق کسی کو معاف کرنا ہی بہترین انتقام ہے ٗ اوراس لیے انہوں نے خود پر حملہ کرنے والے افراد کو بھی معاف کردیا ہے۔ملالہ یوسف زئی نے انکشاف کیا کہ ان پر حملہ کرنے والا شخص نوجوان تھا ٗ

انہوں نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور تقریبا ان کا ہم عمر تھا۔انہوں نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان پر حملہ کرنے والے لڑکے نے سوچا کہ وہ صحیح کام کر رہا اور ایک برے کام کرنے والے شخص کو نشانہ بنا رہا ہے۔تعلیم کیلئے کوشاں رہنے والی ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ ان پر حملہ کرنے والے لوگ بھی ان جیسے ہی ہیں اور انہیں سمجھانے اور ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ملالہ یوسف زئی نے امید ظاہر کی

کہ ان کے ساتھ ہونے والے واقعے کے بعد لوگ نہ صرف انتہاپسندی اور انتہاپسند لوگوں بلکہ ایسی ذہینت کے خلاف بھی اٹھ کھڑے ہوں گے۔20 سالہ پاکستانی نڑاد سماجی کارکن نے تعلیم کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عالمی رہنما تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز کرنا چھوڑ دیں، عالمی رہنما انتہاپسندی، عسکریت پسندی اور غربت پر تو بات کرتے ہیں، مگر وہ تعلیم پر بات نہیں کرتے۔انہوں نے دلیل دی کہ بہتر تعلیم سے ہی ممالک سے غربت ختم ہوگی اور وہاں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…