جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے ہسپتالوں میں ہنگامی دوروں کا ڈر ،پنجاب حکومت نے اہم قدم اٹھا لیا، اگلے 5دنوں میں کیا ہونے جارہا ہے

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(آن لائن) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے ہسپتالوں کے ہنگامی دوروں کے ڈر کی وجہ سے محکمہ صحت پنجاب نے تدریسی ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔ذرائع کے مطابق اسپیشل کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے ہسپتالوں کے ہنگامی دوروں کے بعد کیا گیا۔محکمہ صحت کی جانب سے تشکیل دی گئی اس 12 رکنی کمیٹی کے کنوینر ایم ڈی میو ہسپتال پروفیسر ابرار ہوں گے۔

کمیٹی تدریسی ہسپتالوں میں موجود سہولیات اور عالمی معیار کی ضروریات کا جائزہ لے گی جن میں ہسپتال کا انفراسٹرکچر، آپریشن تھیٹرز، بائیو میڈیکل آلات سمیت دیگر سہولیات شامل ہیں۔ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے نظام، واش رومز، ہسپتال ویسٹ منیجمنٹ، سیکیورٹی اور پارکنگ کو بھی مانیٹر کیا جائے گا جبکہ ہسپتالوں میں کینٹین، فارمیسی، تجاوزات، ہسپتال انفیکشن کنٹرول سسٹم اور آئی ٹی سسٹم کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔کمیٹی پانچ روز کے اندر پنجاب کے تمام تدریسی ہسپتالوں کی رپورٹ محکمہ صحت کو پیش کرے گی۔محکمہ صحت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے دیگر ممبران میں ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر طاہر خلیل، ڈی جی نرسنگ کوثر پروین کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر رقیہ، ڈاکٹر زاہدہ سرور، آرکیٹیک مائرہ آداب، فراز تجمل شامل ہیں۔ادھر علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر راشد ضیا پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نوٹس جاری کر دیا۔نوٹس کے مطابق پروفیسر راشد ضیا کے گزشتہ مالی سال گوشواروں میں 34 لاکھ 41 ہزار روپے کا فرق ہے جبکہ ان کے ذرائع آمدن کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ایف بی آر نوٹس کے مطابق علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل کے گوشواروں کی کل مالیت 3 کروڑ 86 لاکھ روپے ہے۔

نوٹس کے مطابق ماہانہ تنخواہ، ذرعی اور دیگر ذرائع سے حاصل آمدن 54 لاکھ 76 ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے جبکہ بینک اکاونٹس کے مطابق پروفیسر راشد ضیا کی سالانہ آمدن 89 لاکھ 17 ہزار روپے بنتی ہے۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پروفیسر راشد ضیا نے پرائیویٹ پریکٹس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن بھی ظاہر نہیں کی۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…