اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

جعلی پیر کی کرامت۔۔2کتے زندہ جلا کر راکھ مریدوں کو کھلا دی، حضرت عیسیٰ کے معجزے کی برابری کا دعویٰ کر دیا

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جعلی پیر کی کرامت، 2کتے زندہ جلا کر راکھ مریدوں کو کھلا دی، پیر ظہور المعروف لچھاں والی سرکار عیاش آدمی، عیاشی کیلئے(ک)نامی مریدنی کو رکھا ہوا ہے، 2بیویاں اور بچے گھر سے نکال چکا۔ تفصیلات کے مطابق مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چاہ نوناں والا چک آر ایس میں جعلی پیر ظہور المعروف لچھاں والی سرکار نے جادو ٹونے کیلئے

2کتوں کو زندہ جلا دیا اور راکھ بطور شفا مریدوں کو کھلا دی۔میڈیا ٹیم کے پہنچتے ہی جعلی پیر فرار ہو گیا، سفارشی فون کراتا رہا۔ اس موقع پر اہل علاقہ اور جعلی پیر کے بھائی وزیر احمد، جاوید حسن، پیر بخش فوجی، عبدالغفور خواتین حسینہ مائی، مقصود مائی نے جعلی پیر ظہور المعروف لچھاں والی سرکار کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے اس کے خلاف نعرے لگائے۔ میڈیا ٹیم نے وہ راکھ بھی دیکھی جو کتے جلانے سے بنی تھی ۔ جعلی پیر نے لوگوں کو کہا تھا کہ کسی سے ذکر کیا تو جنات سے مروادوں گا۔ جعلی پیر کے بھائی وزیر احمد، جاوید حسن، پیر بخش فوجی، عبدالغفور نے دو کتے زندہ جلانے کی تصدیق کی اور مزید بتایا کہ وہ نہایت عیاش ہے ۔ دو بیویوں کو بچوں سمیت گھر سے نکال چکا جبکہ (ک)نامی مریدنی بغیر نکاح کے ’’خادمہ خاص‘‘کے طور پر ’’موج مستی‘‘کیلئے رکھی ہوئی ہے۔ احتجاج پر قتل کرا دینے جنات سے مروا دینے کی دھمکی دیتا ہے۔کہتا ہے کہ جس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دوں بینائی مل جائے گی اسی طرح کی بہت سی ناقابل تحریر باتیں اور جعلی پیر کا کردار سامنے آیا ہے۔ جعلی پیر کے بھائی وزیر احمد نے جعلی پیر ظہور احمد المعروف لچھاں والی سرکاری کے ان تمام غیر انسانی غیر شرعی واقعات پر مبنی ڈی ایس پی شجاع آباد کو درخواست بھی دکھائی اور کہا کہ وہ بااثر اور دولت مند ہے جس کی وجہ سے مقدمہ کا اندراج نہیں ہونے دیا۔

دوسری جانب جعلی پیر ظہور المعروف لچھاں والی سرکار نے تمام باتوں کو غلط قرار دیا ہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…