اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کو ’’فنکاری ‘‘مہنگی پڑ گئی،پکڑے جانے پر منتیں کرتے رہے،موقعے پر ہی سخت سزا سنادی گئی

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کو فنکاری مہنگی پڑ گئی ،خواجہ آصف کی نا اہلی کی درخواست کی سماعت کے دوران ججز کی ویڈیو بنانے کی کوشش کرنے پر پی ٹی آئی رہنما موبائل ضبط کروا بیٹھے ،تین گھنٹے تک پی ٹی آئی رہنما عدالت میں بیٹھے رہے اور عدالتی عملہ کی منتیں کرتے رہے کہ انہیں موبائل واپس کر دیا جائے پہلے تو عدالت عملہ نے انکار کر دیا

بعد ازاں معافی نامہ کی درخواست لکھوا کر جسٹس محسن اختر کیانی کے حکم پر وارننگ کے بعد عثمان ڈار کو موبائل واپس کیا گیا ۔جمعرات کو پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی جانب سے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نا اہلی کے لئے دائر درخواست کی سماعت کیلئے جب جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل اورنگزیب کیس کی سماعت کیلئے عدالت میں آئے تو پی ٹی آئی کے رہنما اور درخواست گزار عثمان ڈار نے اپنے ساتھ آئے ملازم ارسلان کو اپنے موبائل کا کیمرہ آن کر کے دیا کہ وہ ججز کے ریمارکس کی ویڈیو بنائے جس پر ارسلان ویڈیو بنا رہا تھا کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے دیکھ لیا اور عدالتی عملہ کو ہدایت کی کہ لڑکے کا موبائل ضبط کر لیا جائے عدالتی حکم پر عملے نے موبائل ضبط کر لیا ۔جب اس ھوالے سے آن لائن نے ارسلان سے موبائل بارے پوچھا تو ارسلان نے بتایا کہ موبائل عثمان ڈار کا ہے اور وہ ان کے کہنے پر ہی ویڈیو اور تصاویر بنا نے لگا تھا ۔سماعت کے دوران تین رکنی بینچ میں سے معزز جج میاں گل اورنگزیب نے ذاتی وجوہات کی بنا پر کیس سننے سے معذرت کر لی جسکی وجہ سے بینچ ٹوٹ گیا ،جس پر جسٹس عامر فاروق نے معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد انور کان کاسی کو نیا بینچ بنانے کیلئے بھجوا دیا ہے ۔واضع رہے کہ گزشتہ سماعت پر عثمان دار کی جانب سے خواجہ آصف کی نااہلی کیلئے مزید دستاویزات جمع کروائی تھی جن میں سات نکات اٹھائے گئے تھے دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ خواجہ آصف غیر ملکی کمپنی سے 16 لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں اور اور انہوں نے کمپنی کے ساتھ آٹھ گھنٹے کام کرنے کا معائدہ کیا ہوا ہے جبکہ خواجہ آصف نے 2012اور 2013 کے انکم ٹیکس گوشواروں میں اقامہ اور نوکری ظاہر نہیں کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…