اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ انتظامیہ شامی حکومت پر کاری ضرب لگانے پر غورکررہی ہے ،امریکی اخبار

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شامی حکومت کے خلاف ایک نئی فوجی کارروائی پر غور کر رہی ہے۔اخبار نے امریکی انتظامیہ کے ایک مقرب ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں پر کلورین گیس اور کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کے متعلق رپورٹوں کے بعد بشار حکومت کو سزا دینے کے آپشنز طلب کر لیے ہیں۔

واضح رہے کہ بہت سی رپورٹوں میں گزشتہ ماہ الغوطہ الشرقیہ میں کلورین گیس کے حامل بموں کے تکرار کے ساتھ استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔دوسری جانب ماسکو میں کرملن ہاؤس نے کیمیائی حملوں کے سبب شام میں امریکی فوجی کارروائی کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ کرملن کا مزید کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق دعوؤں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔گزشتہ ماہ کے آغاز پر ایک سینئر امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں سے متعلق الزامات کے بعد امریکا شام میں فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا۔ عہدیدار کے مطابق بشار حکومت اور داعش تنظیم دونوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری ہے۔ایک دوسرے عہدیدار کا کہنا تھا کہ فوجی طاقت کا استعمال ہمیشہ زیر بحث رہتا ہے۔اپریل 2017ء میں امریکا نے شام میں بشار حکومت کی فورسز پر حملہ کیا تھا۔ خان شیخون قصبے میں کیمیائی ہتھیاروں سے قتل عام کے جواب میں کی گئی کارروائی میں شام کے ایک فصائی اڈّے پر 59 میزائل داغے گئے۔امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا تھا کہ 59 ٹوم ہاک میزائلوں کے ذریعے حمص کے قریب واقع الشعیرات کے فضائی اڈے پر لڑاکا طیاروں ، ایندھن اور لوجسٹک لوازمات اور گولہ بارود کے ذخیروں ، فضائی دفاعی نظام اور ریڈاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…