بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

والدین کہتے ہیں بیٹی کو اسلام آباد میں بہت بڑی نوکری مل گئی ہے اب اسلام آباد ۔۔۔! دلت برادری سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی کی نومنتخب سینیٹرکرشنا کوہلی کا انٹرویو،دلچسپ انکشافات

datetime 4  مارچ‬‮  2018 |

لندن/کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) تھر کے ضلع نگرپار کے پسماندہ علاقے کی دلت برادری سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی کی نو منتخب سینیٹر کرشنا کماری کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو اسلام آباد میں بہت بڑی نوکری مل گئی ہے اور اب وہ اسلام آباد چلی جائیں گی۔بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام میں کرشنا کماری نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والدین کو پتا ہی نہیں کہ سینیٹر کیا ہوتا ہے اور ان کا رکن منتخب ہو جانا کیا معنی رکھتا ہے۔

کرشنا کماری نے کہا کہ ان کی برداری کے جو لوگ ان کے گھر انھیں مبارک باد دینے کے لیے آ رہے ہیں اْن سے اْن کے والدین کا یہ ہی کہنا ہے کہ اْن کی بیٹی کو بہت بڑی نوکری مل گئی ہے اور وہ جلد اسلام آباد چلی جائیں گے۔کرشنا کماری نے کہا کہ ان کے گھر والے اور ان کی برداری والے بہت خوش ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔ملک کی سینیٹ میں منتخب ہونے پر کرشنا کماری نے اپنے جذبات اور تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اتنی خوشی ہوئی ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ سب کچھ خواب سا لگ رہا ہے اور وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ وہ سینیٹر منتخب ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھ ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔’کرشنا کماری نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کی یہ سوچ تھی کہ انھیں کوئی اچھی نوکری مل جائے گی اور وہ اپنی برداری کی کچھ خدمت کر سکیں گی۔کرشنا کماری عمرانیات میں ایم اے کی ڈگری رکھتی ہیں اور اپنے علاقے میں سماجی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ سیاست میں آنے کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ سیاست میں آنے کے بارے میں جب بھی وہ سوچتی تھیں تو انھیں یہ ہی خیال آتا تھا کہ کبھی موقع ملا تو صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہو کر اپنے علاقے کے پسماندہ اور غریب لوگوں کے لیے کچھ کریں گی۔صوبہ سندھ میں ہندو اقلیت کی بھیل، کوہلی، میگاوار اور اوڈ برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت انتہائی غریب ہے اور ان میں خواندگی کی شرح بھی بہت کم ہے۔

سندھ کے ان دور آفتادہ علاقوں میں بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا ایک انہونی سے بات ہے۔ ان علاقوں میں غربت کی وجہ سے لوگوں میں اتنی سکت ہی نہیں ہوتی کہ وہ بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہروں میں بھیج سکیں۔کرشنا کماری اپنی برداری کے لوگوں اور خاص طور پر خواتین کے لیے کچھ کرنے کے عزم سے سرشار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کیونکہ وہ جرنل سیٹ سے منتخب ہوئی ہیں اس لیے وہ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔کرشنا کماری کو اس بات کا پوری طرح ادراک ہے کہ سینیٹر کا کردار زیادہ تر قانون سازی تک محدود ہوتا ہے

اور وہ پارلیمان کے ایوان بالا میں اپنے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کرشنا نے کہا کہ سینیٹ کا پلیٹ فارم ایک بڑا پلیٹ فارم ہے اور اس کا مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے خواتین کی تعلیم اور صحت کو اجاگر کرنے اور انھیں حل کرنے کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔کرشنا کماری کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی برداری کے اسی فیصد سے زیادہ لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور ان کا اپنی برادری کے لوگوں سے قریبی رابطہ ہے۔ کرشنا کماری کے فون کی رنگ ٹون اپنے وقت کے مقبول ترین قومی ترانے ’سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد‘ ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…