بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

پاکستان نے کابل مارکیٹ کا بڑا حصہ کھو دیا ،دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 70000 اشیاء سے بھرے کنٹینرز سفر کیا کرتے تھے اور اب تعداد کیا ہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زبیر موتی والا نے کہاہے کہ بھارت، افغانستان کی مارکیٹ میں داخل ہونے کے بعد پاکستان کے 50 فیصد شیئر کو کم کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ایک انٹرویو میں زبیر موتی والانے کہاکہ بھارت اور چین کے داخل ہونے کے باعث پاکستان کو مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے،

جیسا کہ بھارت برآمدات پر بھاری سبسڈی فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران افغانستان کی پاکستان کے لیے تجارت 2.7 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان، افغانستان میں اپنی روایتی مارکیٹس بھی کھو چکا ہے، جن میں گندم، مردوں اور خواتین کے لباس اور سرخ گوشت کی مارکٹس شامل ہیں۔زبیر موتی والا نے کہا کہ بھارت نے افغان مارکیٹس میں داخل ہونے کیلئے اشیاء پر سبسڈی جبکہ فضائی سفر کیلئے 75 فیصد تک رعایت بھی دے رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان شہریوں کو بھارت کا سفر کرنا آسان معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ کم کرائے اور بغیر پولیس چیکس کے فری ویزا کی فراہمی ہے۔زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ ہر سال ہزاروں افغانی علاج کی غرض سے پشاور آتے تھے لیکن بھارت میں علاج کے لیے اخراجات میں کمی کے باعث وہ وہاں کا رخ کررہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پشاور کا میڈیکل ٹورزم، جو افغان شہریوں کے باعث جاری تھا، صفر ہوگیا ہے اور حیات ا?باد کے ہسپتال خالی ہوگئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے لیے پاکستان سے جانے والے کنٹینرز کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے، زبیر موتی والا نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 70000 اشیاء سے بھرے کنٹینرز سفر کیا کرتے تھے تاہم ان کی تعداد اب کم ہو کر 7000 ہو گئی ہے جو افغانستان کیلئے اشیا ء کی ترسیل کے روٹ میں تبدیلی کی جانب ایک اشارہ ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…