جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

پاکستان نے کابل مارکیٹ کا بڑا حصہ کھو دیا ،دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 70000 اشیاء سے بھرے کنٹینرز سفر کیا کرتے تھے اور اب تعداد کیا ہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زبیر موتی والا نے کہاہے کہ بھارت، افغانستان کی مارکیٹ میں داخل ہونے کے بعد پاکستان کے 50 فیصد شیئر کو کم کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ایک انٹرویو میں زبیر موتی والانے کہاکہ بھارت اور چین کے داخل ہونے کے باعث پاکستان کو مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے،

جیسا کہ بھارت برآمدات پر بھاری سبسڈی فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران افغانستان کی پاکستان کے لیے تجارت 2.7 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان، افغانستان میں اپنی روایتی مارکیٹس بھی کھو چکا ہے، جن میں گندم، مردوں اور خواتین کے لباس اور سرخ گوشت کی مارکٹس شامل ہیں۔زبیر موتی والا نے کہا کہ بھارت نے افغان مارکیٹس میں داخل ہونے کیلئے اشیاء پر سبسڈی جبکہ فضائی سفر کیلئے 75 فیصد تک رعایت بھی دے رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان شہریوں کو بھارت کا سفر کرنا آسان معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ کم کرائے اور بغیر پولیس چیکس کے فری ویزا کی فراہمی ہے۔زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ ہر سال ہزاروں افغانی علاج کی غرض سے پشاور آتے تھے لیکن بھارت میں علاج کے لیے اخراجات میں کمی کے باعث وہ وہاں کا رخ کررہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پشاور کا میڈیکل ٹورزم، جو افغان شہریوں کے باعث جاری تھا، صفر ہوگیا ہے اور حیات ا?باد کے ہسپتال خالی ہوگئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے لیے پاکستان سے جانے والے کنٹینرز کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے، زبیر موتی والا نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 70000 اشیاء سے بھرے کنٹینرز سفر کیا کرتے تھے تاہم ان کی تعداد اب کم ہو کر 7000 ہو گئی ہے جو افغانستان کیلئے اشیا ء کی ترسیل کے روٹ میں تبدیلی کی جانب ایک اشارہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…